
گجرات کی سیاست اور سماجی ڈھانچے میں ایک بڑا تاریخی بدلاؤ آنے والا ہے۔ اتراکھنڈ کے بعد اب گجرات ملک کی اگلی ریاست بننے کی راہ پر ہے جہاں یونیفارم سول کوڈ (UCC) یعنی یکساں سول قانون نافذ ہوگا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کو سونپ دی ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ 25 مارچ کو بجٹ سیشن کے آخری دن اس طویل عرصے سے متوقع بل کو اسمبلی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی صدارت والی اس کمیٹی نے ریاست بھر کا دورہ کرنے اور تقریباً 19 لاکھ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد یہ مسودہ تیار کیا ہے۔
یو سی سی کے 5 بڑے بدلاؤ
یونیفارم سول کوڈ کا سیدھا مطلب ہے ‘ایک ملک، ایک قانون’۔ اب تک شادی، طلاق اور جائیداد جیسے معاملات میں مختلف مذاہب کے اپنے پرسنل لا (جیسے ہندو میرج ایکٹ یا مسلم پرسنل لا) نافذ ہیں، لیکن یو سی سی کے بعد یہ 5 اصول سب کے لیے یکساں ہوں گے:
شادی اور طلاق کے یکساں قوانین:
فی الحال مختلف مذاہب میں شادی کی عمر اور طلاق کا طریقہ الگ الگ ہے۔ یو سی سی کے نفاذ کے بعد شادی کی رجسٹریشن لازمی ہو سکتی ہے اور تمام برادریوں کے لیے طلاق کا قانونی عمل یکساں ہوگا۔
کثرتِ ازدواج (Polygamy) پر پابندی:
اس وقت کچھ پرسنل لاز کے تحت ایک سے زیادہ شادی کی اجازت ہے، لیکن یو سی سی کے تحت ایک سے زائد شادی مکمل طور پر ممنوع ہو سکتی ہے، چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق ہو۔
جائیداد میں بیٹے اور بیٹی کا برابر حق:
وراثت اور وصیت کے قوانین میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ والدین کی جائیداد میں بیٹے اور بیٹی کو برابر قانونی حق دیا جائے گا اور اس میں مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔
گود لینے (Adoption) کے اصول:
فی الحال مسلم قانون میں گود لینے کے اصول ہندو قانون جیسے نہیں ہیں۔ یو سی سی کے بعد بچوں کو گود لینے کا نظام تمام شہریوں کے لیے یکساں، شفاف اور آسان بنایا جائے گا۔
نان و نفقہ (Alimony):
طلاق کے بعد بیوی کو ملنے والا خرچ مذہبی قوانین کے بجائے یو سی سی کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہوگا، جس سے خواتین کے مالی تحفظ کو مضبوطی ملے گی۔
19 لاکھ تجاویز اور مخالفت
وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘یکساں قانون’ کے وژن کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ گجرات حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران کمیٹی نے 38 مسلم تنظیموں سمیت مختلف مذہبی رہنماؤں اور سیاسی شخصیات سے رائے لی۔
تاہم، یہ عمل مکمل طور پر آسان نہیں رہا۔ اپریل 2025 میں احمد آباد اور وڈودرا جیسے شہروں میں مسلم کمیونٹی کے افراد نے اس مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ان کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہے، جبکہ حکومت اسے خواتین کو بااختیار بنانے اور مساوات کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔
ہائی کورٹ سے منظوری
قانونی محاذ پر بھی حکومت کو بڑی راحت ملی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں گجرات ہائی کورٹ نے یو سی سی کمیٹی کے قیام کو چیلنج کرنے والی درخواست کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ وہ انتظامیہ کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ حکومت کے پاس اس بل کو آگے بڑھانے کا مکمل آئینی اختیار موجود ہے۔







