
نئی دہلی :پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں پیش آئے ایک واقعے نے بدھ کے روز خاصی توجہ حاصل کی، جہاں کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے لڑکھڑا گئے۔ اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا۔ اس پورے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ششی تھرور پارلیمنٹ احاطے کی سیڑھیوں پر موبائل فون پر بات کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے ایک سیڑھی پر قدم رکھا، ان کا پاؤں پھسلا اور وہ توازن کھو بیٹھے۔ اسی لمحے ان کے ساتھ کھڑے اکھلیش یادو نے چوکنا پن دکھاتے ہوئے انہیں گرنے سے بچا لیا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی، اور پھر اکھلیش یادو ششی تھرور کا ہاتھ تھام کر چند سیڑھیاں نیچے اترتے نظر آئے۔
واقعے کے بعد ششی تھرور کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جانے لگا۔ کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر ان کی خیریت کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ ان قیاس آرائیوں کے درمیان ششی تھرور نے خود اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کی۔ ششی تھرور نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’جس دیے کو طوفان میں جلنا ہو، اسے سنبھل سنبھل کر چلنا ہوگا۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ ان کے اس بیان کو محض خیریت کی وضاحت ہی نہیں بلکہ سیاسی مفہوم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس پر مختلف تجزیے کیے جا رہے ہیں۔
اسی دن پارلیمنٹ احاطے میں ایک اور واقعہ بھی زیرِ بحث رہا، جہاں لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی اور مرکزی وزیر روی نیت سنگھ بٹّو کے درمیان تلخ نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔ راہل گاندھی نے بٹّو سے کہا کہ فکر نہ کریں، آپ واپس آئیں گے، اور اس دوران انہیں ’’غدار‘‘ کہہ دیا۔ اگرچہ راہل گاندھی نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن روی نیت سنگھ بٹّو بغیر ہاتھ ملائے وہاں سے چلے گئے۔اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دہلی کے سات بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ نے راہل گاندھی کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے سکھ برادری کی شناخت اور جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اس طرح پارلیمنٹ کے احاطے میں پیش آنے والے یہ واقعات دن بھر سیاسی بحث کا مرکز بنے رہے۔






