
چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مستعدی نے نکسلیوں کے ایک انتہائی خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ بیجاپور ضلع کے لنکاپلّی علاقے میں نکسلیوں نے جوانوں کو نشانہ بنانے کے لیے سڑک کے عین درمیان بھاری مقدار میں آئی ای ڈی (IED) نصب کر رکھی تھی، جسے بروقت تلاش کر کے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
کیسے بچھایا گیا تھا موت کا جال؟
یہ واقعہ جمعرات، 29 جنوری 2026 کا ہے۔ ڈی آر جی (DRG) بیجاپور، ایلمِڈی تھانہ پولیس اور چھتیس گڑھ آرمڈ فورس (CAF) کی 9ویں بٹالین کی مشترکہ ٹیم علاقے میں سکیورٹی جانچ کے لیے سرچ آپریشن پر نکلی ہوئی تھی۔ جب ٹیم ایلمِڈی-لنکاپلّی کے کچے راستے سے گزر رہی تھی تو جوانوں کو زمین میں چھیڑ چھاڑ اور کچھ مشتبہ سرگرمی کے آثار نظر آئے۔
احتیاط برتتے ہوئے جب بارودی سرنگوں کی جانچ (ڈی مائننگ) شروع کی گئی تو سکیورٹی اہلکاروں کے ہوش اُڑ گئے۔ نکسلیوں نے سڑک کے بالکل درمیان میں 20 سے 30 کلوگرام وزنی دو طاقتور آئی ای ڈی چھپا رکھی تھیں۔ یہ دھماکہ خیز مواد اتنا شدید تھا کہ اگر اس میں دھماکہ ہو جاتا تو کسی بھی بڑی گاڑی کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا تھا۔
کمانڈ سوئچ سے دھماکے کی تیاری
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان بموں کو ’’کمانڈ سوئچ سسٹم‘‘ سے جوڑا گیا تھا، یعنی نکسلی دور بیٹھ کر مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی سکیورٹی فورسز کی گاڑی سڑک سے گزرتی، وہ سوئچ دبا کر بڑا دھماکہ کر سکتے تھے۔ نکسلیوں کا مقصد فورسز کو بھاری نقصان پہنچانا تھا، مگر جوانوں کی چوکسی نے ان کے ارادوں پر پانی پھیر دیا۔ بم کی اطلاع ملتے ہی بیجاپور کے بم ناکارہ بنانے والے دستے (BDS) کو موقع پر بلایا گیا۔ خطرے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ٹیم نے تمام حفاظتی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آئی ای ڈی کو وہیں جنگل میں محفوظ طریقے سے تباہ کر دیا۔ دھماکے کی آواز دور تک سنائی دی، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ سازش کامیاب ہو جاتی تو کتنی بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔
علاقے میں سرچ آپریشن تیز
اس بڑی کامیابی کے بعد سکیورٹی فورسز کے حوصلے بلند ہیں۔ پولیس افسران کے مطابق نکسلیوں کی اس بزدلانہ حرکت کے جواب میں علاقے میں سرچنگ اور ’’ایریا ڈومینیشن‘‘ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پورے علاقے کی گھیرابندی کر کے سخت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔





