
نئی دہلی: گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے امریکی فیصلے کی یورپی یونین کے رکن ممالک نے سخت مخالفت کی ہے اور مختلف ممالک نے اسے غلط قرار دیا ہے۔ اس درمیان ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا ایک انٹرویو خاصی بحث میں ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر حملہ کر کے اسے اپنے زیرِ انتظام لے لیتا ہے تو اس کے دور رس جغرافیائی و سیاسی نتائج ہوں گے، نیٹو کی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اور اس صورتِ حال سے سب سے زیادہ خوش روسی صدر ولادیمیر پوتن ہوں گے، کیونکہ اس کے بعد یوکرین پر قبضہ کرنے کی راہ ان کے لیے آسان ہو جائے گی۔ اتوار کے روز ایک اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں سانچیز نے کہا کہ ایسا قدم روس کے یوکرین پر حملے کو جائز ٹھہرانے کے مترادف ہوگا اور عالمی سلامتی کے ایک نازک مرحلے پر مغربی اتحاد کو کمزور کر دے گا۔
دنیا کے سب سے خوش انسان بن جائیں گے پوتن
اسپین کے اخبار لا وینگارڈیا سے گفتگو میں سانچیز نے کہا کہ ڈنمارک کے ایک خودمختار خطے گرین لینڈ کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے سنگین جیوپولیٹیکل نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کسی علاقے پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کو معمول بنا دیا جائے گا اور ایک خطرناک مثال قائم ہوگی، جس پر 2022 میں یوکرین پر حملہ شروع کرنے کے بعد سے روس کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ سانچیز کے مطابق اس سے پوتن ’دنیا کے سب سے خوش انسان‘ بن جائیں گے، کیونکہ اس سے ماسکو کے خلاف نیٹو کے اخلاقی اور سیاسی موقف کو شدید دھچکا پہنچے گا۔
آٹھ یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا کیا اعلان
دراصل، امریکی صدر نے گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک کے حق میں کھڑے ہونے والے 27 میں سے آٹھ یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا،
“ہم نے کئی برسوں تک ڈنمارک، یورپی یونین کے تمام ممالک اور دیگر کو سبسڈی دی، ان سے نہ ٹیرف لیا اور نہ ہی کسی اور شکل میں معاوضہ۔ اب، صدیوں بعد، ڈنمارک کے لیے واپس دینے کا وقت آ گیا ہے؛ دنیا کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔ چین اور روس گرین لینڈ چاہتے ہیں اور ڈنمارک اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ ان کے پاس سکیورٹی کے لیے اس وقت صرف دو ڈاگ سلیج ہیں (طنزیہ انداز میں چین اور روس کو دو ڈاگ سلیج کہا گیا ہے)، جن میں سے ایک حال ہی میں شامل کی گئی ہے۔”
نیٹو کے اتحادیوں کی سلامتی کیلئے ٹیرف لگانا غلط
اس کے بعد برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “گرین لینڈ کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے؛ یہ ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہے اور اس کا مستقبل گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کا معاملہ ہے۔ ہم یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ آرکٹک کی سلامتی پورے نیٹو کے لیے اہم ہے اور اتحادی ممالک کو آرکٹک کے مختلف حصوں میں روس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مل کر مزید کام کرنا چاہیے۔ نیٹو کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ٹیرف لگانا سراسر غلط ہے۔ ہم یقیناً اس معاملے کو براہِ راست امریکی حکومت کے سامنے اٹھائیں گے۔”
ای یو نے طلب کی تمام سفیروں کی ہنگامی میٹنگ
بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان یورپی یونین نے اپنے تمام سفیروں کی ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیر اتوار کو ایک ایمرجنسی اجلاس کے لیے جمع ہوں گے۔ قبرص، جس کے پاس چھ ماہ کے لیے یورپی یونین کی باری باری صدارتی ذمہ داری ہے، نے ہفتہ کی رات دیر گئے بتایا کہ اس نے اتوار کے روز یہ اجلاس بلایا ہے۔







