
بھارت میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اس ہفتے کے آغاز میں باضابطہ طور پر اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے ہوئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ملاقات کے بعد سرجیو گور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس بات کی جانکاری دی۔ انہوں نے لکھا کہ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا سے ملاقات انتہائی خوشگوار رہی اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں جدید امریکی ٹیکنالوجی سمیت کئی اہم شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر غور کیا گیا۔
ممبئی کے دورے کے دوران امریکی سفیر نے ٹاٹا گروپ کے چیئرمین این چندرشیکھرن سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سرجیو گور نے لکھا کہ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین کے ساتھ ان کی ایک مفید اور مثبت گفتگو ہوئی۔ انہوں نے ٹاٹا گروپ کو ڈیڑھ سو سالہ شاندار وراثت رکھنے والا ادارہ قرار دیا اور کہا کہ اس گروپ کی امریکہ میں بھی مضبوط موجودگی ہے، جو دونوں ممالک کے صنعتی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ سرجیو گور نے ممبئی کے اپنے پہلے دورے کے آغاز پر امریکی قونصل خانے کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممبئی میں اپنے پہلے دورے کی شروعات قونصل خانے سے کر کے بے حد پُرجوش ہیں۔ ان کے مطابق قونصل خانے کی ٹیم امریکہ اور بھارت کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگی۔
اس سے قبل پیر کے روز نئی دہلی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد 14 جنوری کو سرجیو گور نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو اپنے اسنادِ سفارت پیش کیے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعتماد کے لیے شکر گزار ہیں اور امریکہ کی ترجیحات کو آگے بڑھانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ اور بھارت مل کر سلامتی، تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری اکیسویں صدی کی سمت کا تعین کرے گی اور عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرے گی۔
قومی دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے پہلے دن امریکی سفیر نے ایک خطاب بھی کیا، جس میں انہوں نے بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 13 جنوری سے دوبارہ تجارتی بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ اس عمل میں شامل ہیں۔ سرجیو گور نے کہا کہ بھارت دنیا کا ایک بڑا اور اہم ملک ہے، اس لیے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا آسان کام نہیں، لیکن دونوں ممالک مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو امریکہ کا سب سے اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں ان کا مقصد ایک جامع ایجنڈے پر عمل درآمد کرنا ہے، جس میں باہمی احترام، اعتماد اور قیادت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔







