
ے پور (راجستھان): راجستھان کے جے پور ضلع کے چومو قصبے میں جمعہ کو پتھراؤ کے ایک واقعے کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ احتیاطی تدبیر کے طور پر بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک مقامی مسجد کے قریب مبینہ تجاوزات کے معاملے سے جڑا ہوا ہے، جس پر طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور کسی بھی قسم کے انتشار کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کی گئی ہے۔ واقعے کے سلسلے میں متعدد افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
مسجد کے قریب تجاوزات پر تنازع
جے پور پولیس کے مطابق یہ واقعہ قلندری مسجد کے قریب پیش آیا، جہاں تجاوزات کے معاملے پر پہلے سے کشیدگی پائی جاتی تھی۔ مغربی جے پور کے ڈی سی پی ہنومان پرساد مینا نے بتایا کہ تنازع میں شامل ایک فریق نے پہلے ہی اپنی جانب سے مبینہ تجاوزات ہٹا دی تھیں، تاہم بعد میں کچھ افراد نے لوہے کی جالی لگا کر اس ڈھانچے کو مستقل طور پر دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
پولیس مداخلت پر پتھراؤ
ڈی سی پی ہنومان پرساد مینا کے مطابق جب پولیس نے غیر قانونی ڈھانچے کو ہٹانے کے لیے مداخلت کی تو کچھ افراد نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال صورتحال پُرامن اور قابو میں ہے۔
انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند
جے پور کے اسپیشل پولیس کمشنر راہل پرکاش نے بتایا کہ اس واقعے کے سلسلے میں تقریباً نصف درجن افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں خاطر خواہ پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور احتیاطی قدم کے طور پر انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
ملزمان کی گرفتاری اور تردید
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کو ان کے گھروں سے حراست میں لیا گیا ہے اور الزام ہے کہ یہ افراد گزشتہ رات پتھراؤ میں ملوث تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی۔
دوسری جانب حراست میں لیے گئے بعض افراد نے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایک زیر حراست شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے پتھراؤ میں حصہ نہیں لیا اور اس کے گھر سے ملنے والا ملبہ غلط طور پر اس کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا، ’’میں نے ایک پتھر تک نہیں اٹھایا۔‘‘ ایک اور شخص نے بھی اپنے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔







