
تائیوان میں بدھ 24 دسمبر 2025 کو ایک بار پھر زلزلے نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جنوب مشرقی تائیوان سے لے کر دارالحکومت تائی پے تک زمین کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث بلند و بالا عمارتیں ہلنے لگیں اور شہری اپنی جان بچانے کے لیے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ اس قدرتی آفت کے مناظر سوشل میڈیا پر سامنے آئے، جہاں عمارتوں کے لرزنے کی ویڈیوز نے خوفناک صورتحال کی عکاسی کی۔
تائیوان کی سینٹرل ویدر ایڈمنسٹریشن اور عالمی زلزلہ نگرانی اداروں کے مطابق، اس دوران دو الگ الگ جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔ پہلا جھٹکا 5.7 شدت کا تھا، جس کا مرکز کم گہرائی میں واقع ہونے کے باعث دارالحکومت اور اطراف کے علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند لمحوں تک زمین اور عمارتیں مسلسل ہلتی رہیں، جس سے خوف کی فضا قائم ہو گئی۔
کچھ ہی دیر بعد دوسرا اور نسبتاً زیادہ طاقتور جھٹکا تائیوان کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے تائیتونگ کاؤنٹی میں ریکارڈ کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.1 ناپی گئی۔ اس جھٹکے کے اثرات بھی وسیع علاقوں میں محسوس کیے گئے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ خوش قسمتی سے فوری
طور پر کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
انتظامیہ کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ہنگامی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں۔واضح رہے کہ تائیوان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے اور اس سے قبل اپریل 2024 میں یہاں 7.4 شدت کا ایک تباہ کن زلزلہ آیا تھا، جو گزشتہ 25 برسوں میں سب سے طاقتور قرار دیا گیا۔ اس سانحے میں درجنوں افراد کی ہلا ک ہوگئے تھے اور کئی علاقوں میں شدید تباہی ہوئی تھی۔ اس پس منظر میں حالیہ زلزلے نے ایک بار پھر ماضی کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں۔







