
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نابالغ بچی کی دوبارہ گواہی کرانے سے انکار کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بنچ نے سنایا، جس میں واضح کیا گیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 311 کا استعمال نہایت محدود اور احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دفعہ 311 کے تحت کسی گواہ کو دوبارہ بلانے کا اختیار صرف اسی صورت میں استعمال کیا جانا چاہیے، جب یہ سچائی تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مقدمے میں ایسی کوئی غیر معمولی ضرورت نظر نہیں آتی، جو نابالغ بچی کی دوبارہ گواہی کو جائز ٹھہرا سکے۔
عدالت نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ استغاثہ کی جانب سے تمام 21 گواہوں کی گواہی مکمل ہونے کے بعد، یعنی ٹرائل کے آخری مرحلے میں، ایک 11 سالہ بچی کو دوبارہ بطور گواہ پیش کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔ بنچ نے کہا کہ اس تاخیر کے لیے نہ تو کوئی ٹھوس وجہ بتائی گئی اور نہ ہی کوئی اطمینان بخش وضاحت پیش کی گئی۔ عدالت کے مطابق اس طرح کی اجازت دینے سے نہ صرف مقدمہ غیر ضروری طور پر طول پکڑتا ہے بلکہ ملزمین کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے پر عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ مان لینا کہ بچی ایک عینی شاہد ہو سکتی ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ عدالتی ریکارڈ میں ایسا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے، جس سے یہ ثابت ہو کہ بچی واقعے کے وقت موقع پر موجود تھی یا اس نے پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اتنے طویل عرصے کے بعد بچی کی گواہی کی ساکھ اور اعتبار پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ اگرچہ دفعہ 311 کے تحت عدالت کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن ان کا استعمال صرف اسی صورت میں ہونا چاہیے، جب پیش کی جانے والی گواہی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے ناگزیر ہو۔ موجودہ معاملے میں یہ شرط پوری نہیں ہوتی، اس لیے گجرات ہائی کورٹ کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اس پورے معاملے کی جڑ سال 2017 میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جب ایک خاتون نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔ اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد خاتون کے والد نے اس کے شوہر اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 498 اے، 306 اور جہیز مخالف قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس وقت میاں بیوی کی بیٹی کی عمر تقریباً چار سال تھی۔
مقدمے کے دوران استغاثہ کی جانب سے 21 گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی، لیکن کسی بھی مرحلے پر یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ بچی واقعے کی عینی شاہد تھی۔ واقعے کے تقریباً سات سال بعد، استغاثہ نے اب 11 سال کی ہو چکی بچی کو بطور گواہ پیش کرنے کی درخواست دائر کی، جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، گجرات ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے بچی کی گواہی کرانے کی اجازت دے دی تھی، جسے اب سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔







