
راولپنڈی: پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سنایا، جہاں عمران خان پہلے ہی مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ اس فیصلے نے ملک کی سیاسی فضا کو مزید گرما دیا ہے اور عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے تقریباً 80 سماعتوں کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے عمران خان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34، یعنی مشترکہ نیت اور دفعہ 409، یعنی مجرمانہ خیانت کے تحت مجموعی طور پر دس سال قید کی سزا دی۔ اس کے علاوہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2) کے تحت مزید سات سال قید سنائی گئی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کو بھی انہی دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
کب کا معاملہ ہے؟
یہ معاملہ توشہ خانہ ٹو کیس کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا تعلق مئی 2021 سے ہے۔ استغاثہ کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو ایک قیمتی بلغاری جیولری سیٹ بطور تحفہ دیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس قیمتی سیٹ کو سرکاری قوانین کے برخلاف انتہائی کم قیمت پر خریدا گیا، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا اور توشہ خانہ کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔
جرمانہ بھی کیا گیا عائد
عدالت نے دونوں ملزمان پر 16.4 ملین پاکستانی روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو انہیں مزید قید کا سامنا کرنا ہوگا۔ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ سزا کا تعین کرتے وقت عمران خان کی عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ نرمی برتی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-بی کے تحت زیرِ حراست گزارا گیا وقت سزا میں شامل کیا جائے گا۔
بین الاقوامی ردعمل
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی جیل میں قید اور مبینہ ناروا سلوک پر عالمی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے عمران خان کی تنہائی میں قید پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاست میں مزید ہلچل متوقع ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔







