
وزیرِ اعظم نریندر مودی ایتھوپیا کے بعد دو روزہ سرکاری دورے پر عمان پہنچ گئے ہیں۔ یہ ان کے تین ملکی غیر ملکی دورے کا تیسرا اور آخری مرحلہ ہے۔ وزیرِ اعظم 17 اور 18 دسمبر کو عمان میں قیام کریں گے، جہاں وہ سلطانِ عمان ہیثم بن طارق سے ملاقات کر کے دو طرفہ اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور عمان کے سفارتی تعلقات کے 70 برس مکمل ہو چکے ہیں، جس سے اس سفر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ عمان کو خلیجی ممالک کا ’گیٹ وے‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والا ایک اہم اسٹریٹجک اور تجارتی مرکز ہے۔ وزیرِ اعظم مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اور کثیر الجہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
مسقط میں ڈیڑھ سو سال پرانا مندر
عمان کی راجدھانی مسقط میں واقع موتیشور مندر خاص توجہ کا مرکز ہے، جو تقریباً 125 سال پرانا ہے۔ کسی خلیجی مسلم ملک میں اتنا قدیم ہندو مندر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عمان میں بھارتی برادری کو تاریخی طور پر عزت اور احترام حاصل رہا ہے۔ وزیرِ اعظم مودی ماضی میں اس مندر کا دورہ بھی کر چکے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مذہبی رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
بھارت–عمان تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید
وزیرِ اعظم کے دورۂ عمان سے توانائی، مینوفیکچرنگ، صحت، سیاحت اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون اور تجارت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ مسقط میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی صنعت سے وابستہ ممتاز شخصیات نے کہا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور عمان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے ذریعے اپنی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر غور کر رہے ہیں۔ یونو مِنڈا لمیٹڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین نرمل کے مِنڈا نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے اس دورے سے کئی نئے شعبوں میں تعاون کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، ”عمان میں توانائی کی کم لاگت اور بھارت کا مضبوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ بھارت ہنرمند افرادی قوت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ عمان خطے میں ایک اہم لاجسٹکس اور تجارتی مرکز کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے“۔
بھارتی برادری کا دیرینہ کردار
اپولو ہاسپٹلز انٹرپرائز لمیٹڈ کی جوائنٹ مینیجنگ ڈائریکٹر سنگیتا ریڈی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے اس دورے سے بھارت اور عمان کے پہلے سے مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ”بھارتی شہری دہائیوں سے عمان کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں اور یہاں کی معیشت اور سماج میں ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے“۔
ان کے مطابق، تجارتی معاہدوں کے ذریعے اقتصادی تعلقات کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سماجی اور ثقافتی رشتے بھی مزید گہرے ہوں گے۔ الیجز فوڈز ایل ایل سی کے چیئرمین صالح محمد الشنفری نے کہا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط سمندری روابط، ثقافتی تبادلے اور عوامی روابط دونوں قوموں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی 15 سے 18 دسمبر تک کے غیر ملکی دورے کے آخری مرحلے میں سلطان ہیثم بن طارق کی دعوت پر دوسری مرتبہ عمان کا دورہ کر رہے ہیں۔ بھارت اور عمان کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے، جس کی بنیاد تجارت، توانائی تعاون اور ثقافتی تعلقات پر ہے۔ یہ دورہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی توقع رکھتا ہے۔







