
نئی دہلی: لال قلعہ کار بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے این آئی اے کی درخواست پر ڈاکٹر مُزمل سمیت دیگر گرفتار ملزمین کی ریمانڈ میں چار دن کی توسیع کر دی ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے انہیں سات دن کی ریمانڈ پر بھیجا تھا، جس کی مدت مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج انجوبجّاج چاندنا نے این آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید ریمانڈ کی اجازت دی۔
گرفتاریوں کے دوران برآمدگی
تحقیقات کے دوران ڈاکٹر شاہین سعید کے فریدا آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی کے فلیٹ سے 18 لاکھ 50 ہزار روپے نقد، سونے کی بسکٹ، زیورات اور خلیجی ممالک کی کرنسی بھی برآمد ہوئی ہے۔ این آئی اے نے برآمدگی کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کی ریمانڈ ضروری قرار دی۔
این آئی اے نے سونپی ابتدائی رپورٹ
مرکزی وزارتِ داخلہ نے دہلی کار دھماکے کی تفتیش این آئی اے کے حوالے کی تھی۔ اس کے بعد سے ایجنسی مختلف ریاستوں کی پولیس کے ساتھ مل کر اس دہشت گردی کے نیٹ ورک سے جڑے ہر فرد تک پہنچنے کے لیے تیزی سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ تحقیقات میں اب تک کئی اہم سراغ ملے ہیں جن کی بنیاد پر مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ملزمین پر الزام؟
این آئی اے کے مطابق بلال وانی پر لال قلعہ کے نزدیک ہونے والے کار بلاسٹ کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دانش نامی ملزم نے دھماکے سے پہلے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم سے قبل راکٹ تیار کرنے کی کوشش کی۔ ایجنسی کے مطابق دانش نے عمر کے ساتھ مل کر دہشت گردانہ سازش کو عملی شکل دینے میں اہم رول ادا کیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم شعیب نے دہشت گرد عمر کو دھماکے سے پہلے پناہ فراہم کی اور اسے لاجسٹک سپورٹ بھی دی۔ شعیب ہی نے نُوح میں اپنی سالی افسانہ کے گھر میں عمر کے لیے کرائے پر کمرہ دلایا تھا، جہاں وہ دھماکے سے دس دن قبل تک مقیم رہا۔
بلاسٹ میں 15 افراد جاں بحق
لال قلعہ کے قریب ہونے والے خوفناک کار بلاسٹ میں 15 افراد ہلاک اور 32 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عامر نے بھی عمر کے ساتھ مل کر دھماکے کی سازش تیار کی اور آئی20 کار خریدنے میں مدد کے لیے دہلی آیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ تمام شواہد ملزمین کے ایک منظم دہشت گردانہ نیٹ ورک سے جڑے ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔







