
ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈگو شدید بدانتظامی کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ چار ،دن سے لگاتار فلائٹس کی تاخیر اور منسوخی نے ہزاروں مسافروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ صرف جمعرات کو ہی 550 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوگئیں، جبکہ جمعہ کی صبح دہلی ایئرپورٹ سے 200 سے زائد انڈگو فلائٹس (135 ڈپارچر + 90 ارائیول) اچانک کینسل کر دی گئیں۔دہلی، حیدرآباد، ممبئی اور گوا جیسے بڑے ایئرپورٹس پر افراتفری کا عالم رہا۔ دہلی ایئرپورٹ پر ہزاروں بیگ بکھرے پڑے دیکھے گئے، متعدد مسافر زمین پر سوتے نظر آئے اور ہر طرف احتجاج، نعرے بازی اور غصے کا ماحول رہا۔۔
مسافروں کا غصہ: “12 گھنٹے ہوگئے، نہ پانی ملا، نہ کھانا!”
دہلی میں ایک مسافر نے کہا،ہم شادی میں جا رہے تھے، ہمارا سامان غائب ہے۔ 12 گھنٹے ہو گئے، انڈگو کوئی جواب نہیں دے رہی۔ یہ تو ذہنی اذیت ہے۔” ایک خاتون نے کہا:”14 گھنٹے انتظار کے بعد بھی نہ کھانا دیا گیا، نہ پانی۔ کسی اسٹاف نے ہماری بات سننے کی زحمت تک نہیں کی۔”
حیدرآباد اور گووا میں ہنگامہ
حیدرآباد ایئرپورٹ پر غصے سے بھرے مسافروں نے ایئر انڈیا کی ایک فلائٹ کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا تاکہ پرواز نہ جا سکے۔ ایک شخص نے بتایاکہ ہماری فلائٹ کل شام 7:30 کی تھی، اب 12 گھنٹے ہو گئے۔ انڈگو کہہ رہی ہے کہ تاخیر غیر معینہ مدت تک بڑھ سکتی ہے۔ یہ مذاق ہے۔گووا ایئرپورٹ پر بھی صورتحال خراب رہی، پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔
شہروں میں منسوخ پروازوں کی تعداد
ممبئی 118،بنگلورو 100،حیدرآباد 75،کولکاتا 35،چنئی؎ 26،گووا11،بھوپال: 5
انڈگو کی وضاحت: غلط اندازے، سردی اور اسٹاف کی کمی
ایئرلائن نے مانا کہ نئے قواعد کے بعد کریو کی ضرورت کا اندازہ غلط نکلا۔ سردی، ٹیکنیکل مسائل اور پائلٹس کی کمی نے ملکر حالات کو بگاڑ دیا۔ DGCA کو بھیجی رپورٹ میں انڈگو نے بتایا:پائلٹ ڈیوٹی کے نئے قواعد عارضی طور پر واپس لیے جا رہے ہیں۔رات میں دو لینڈنگ کی پابندی عارضی طور پر ہٹا دی گئی۔ڈیوٹی ٹائمنگ صبح 6 بجے تک بڑھانے کا فیصلہ بھی واپس لیا گیا۔
مزید 3 دن بحران برقرار رہے گا — انڈگو کی وارننگ
انڈگو نے کہا کہ شیڈول کو عام ہونے میں 2–3 دن لگیں گے۔8 دسمبر سے کمپنی نے پروازوں کی تعداد کم کر دی ہے تاکہ بدنظمی پر قابو پایا جا سکے۔ سی ای او پیٹر ایلبرز نے کہا:”وقت پر آپریشن معمول پر لانا آسان نہیں ہوگا، مگر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔”
حکومت کی سخت ناراضگی
صورتحال بگڑنے پر انڈگو کے اعلیٰ حکام نے سول ایوی ایشن منسٹر رام موہن نائیڈو اور DGCA چیف فیض قدوائی سے ملاقات کی۔ایئرلائن نے اعتراف کیا کہ پائلٹ ڈیوٹی–ریسٹ رولز نافذ کرنے میں “پلاننگ گیپ” رہا، خاص طور پر رات کی فلائٹس پر پابندی نے عملے کی ضرورت بڑھا دی۔ ایوی ایشن منسٹر نے کہا کہ انڈگو کو نئے قواعد نافذ کرنے کیلئے کافی وقت دیا گیا تھا اور ہدایت دی کہ ایئرپورٹس پر اضافی اسٹاف تعینات کیا جائے تاکہ مسافروں کو مدد مل سکے۔ایئرلائن نے DGCA سے 10 فروری تک نائٹ فلائٹ رولز میں چھوٹ مانگی ہے، جس پر جلد فیصلہ ہوگا۔بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اگلے کچھ دنوں تک مسافروں کو مزید مشکلات کا سامنا رہ سکتا ہے۔







