
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کی شام چار سال سے زائد وقفے کے بعد اپنی دو روزہ بھارت دورے کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی غیر معمولی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت واقعی خوش قسمت ہے کہ اسے ایسا مضبوط، باوقار اور فیصلہ کن لیڈر ملا ہے۔ شام سات بجے جیسے ہی پوتن کا طیارہ دہلی کے پالَم ایئرپورٹ پر اترا، وزیراعظم مودی نے سفارتی پروٹوکول سے ہٹ کر خود ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کیا۔ مودی نے پہلے مصافحہ کیا، پھر مسکراتے ہوئے گلے لگا کر پوتن کا خیرمقدم کیا، جسے دونوں ممالک کے مضبوط اعتماد اور گرمجوشی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پوتن نے وزیراعظم مودی کی قیادت کو بے حد سراہا اور کہا کہ “وزیراعظم مودی بھارت کے لیے جیتے اور سانس لیتے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ مودی ایک ایسے لیڈر ہیں جو نہ تو بیرونی دباؤ میں آتے ہیں اور نہ ہی کسی کے دباؤ میں فیصلے تبدیل کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیریف دباؤ کے دوران مودی کے مضبوط مؤقف کو یاد کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ بھارت کے مفاد کو اولین ترجیح دی ہے اور اسی وجہ سے بھارتی عوام اپنے لیڈر پر فخر کر سکتے ہیں۔
پوتن نے بھارت کو ’’ایک عظیم طاقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کوئی نوآبادیاتی ریاست نہیں بلکہ اپنے فیصلوں میں مکمل خود مختار ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور بھارت کے تعلقات کی بنیاد احترام، اعتماد اور تاریخی دفاعی و تجارتی تعاون پر ہے۔ پوتن کے مطابق مودی کی قیادت نے اس رشتے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کے ساتھ اپنی پچھلی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے پوتن نے بتایا کہ ماسکو میں دونوں لیڈروں نے ایک شام چائے پر گھنٹوں غیر رسمی گفتگو کی جو ’’دوستوں جیسی، بے ساختہ اور دلچسپ‘‘ تھی۔ انہوں نے کہا کہ مودی سے ہر ملاقات نہایت خوشگوار اور مفید ہوتی ہے کیونکہ وہ صاف گو، سنجیدہ اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے پوری طرح وقف شخص ہیں۔
پوتن کی موجودہ آمد دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور انسانی رابطوں پر مرکوز ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سیاست میں کھچاؤ بڑھ رہا ہے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کی آٹھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کو نئی توانائی دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تین ماہ قبل ایس سی او اجلاس کے دوران پوتن نے مودی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر سیر کرائی تھی، جس نے عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کی تھی۔ پوتن کا تازہ بیان اور دہلی آمد دونوں ملکوں کی مستقل اور دیرپا شراکت داری کی ایک اور واضح علامت ہے۔







