
نئی دہلی: ہندی فلم انڈسٹری کے نامور اداکار دھرمیندر اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ 89 سال کی عمر میں پیر کے روز انہوں نے آخری سانس لی۔ دھرمیندر طویل عرصے سے بیمار تھے، انہیں سانس لینے میں دشواری تھی اور ان کی صحت کافی عرصے سے خراب رہی۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورے ملک میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ بالی وڈ کے حلقوں میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دھرمیندر نے صرف سینما میں ہی نہیں، بلکہ سیاست کے میدان میں بھی اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ حالانکہ، بعد میں انہوں نے سیاست سے دوری اختیار کر لی تھی۔
اداکار نے سال 2004 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر راجستھان کی بیکانیر لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ اس انتخاب میں انہوں نے کانگریس کے رامیشور لال ڈوڈی کو شکست دی۔ اس وقت پورا دیول خاندان انتخابی ميدان میں شامل ہوا اور دھرمنیدر کے لیے مہم چلائی۔ حالانکہ، یہ سیاسی سفر زیادہ طویل نہ رہ سکا۔ کہا جاتا ہے کہ دھرمیندر کو سیاست کا ماحول زیادہ پسند نہیں آیا۔ دھرمیندر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تھے اور اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، جس کے باعث ان کے لیے حالات موافق نہیں تھے۔
دھرمیندر سے بیکانیر کی عوام ہو گئی ناراض
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اداکار اکثر ممبئی میں رہتے تھے، جس سے بیکانیر کی عوام ناراض ہو گئی تھی۔ دھرمیندر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے علاقے کے لیے کئی کام کیے، مگر ان کا کریڈٹ کسی اور کو ملتا رہا۔ پانچ سال کے دورانیے کے بعد دھرمیندر نے سیاست کو الوداع کہہ دیا۔ کئی انٹرویوز کے دوران انہوں نے کہا کہ سیاست ان کے لیے صحیح جگہ نہیں تھی اور وہ فلموں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں رہنا چاہتے تھے۔
سنی اور ہیما مالینی نے لیا سیاست میں حصہ
دھرمیندر کے علاوہ ان کے بیٹے سنی دیول اور اہلیہ ہیما مالینی نے بھی سیاست میں حصہ لیا۔ سنی دیول نے بی جے پی کے ٹکٹ پر گورداسپور لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑا، حالانکہ اب وہ سیاست سے دور ہیں۔ جبکہ دھرمیندر کی اہلیہ ہیما مالینی سیاست میں کامیاب رہیں۔ وہ سال 2003 میں بی جے پی میں شامل ہوئیں اور 2004–2009 تک راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔ اس کے بعد پارٹی نے انہیں سال 2014 میں متھرا سے لوک سبھا انتخابات لڑنے کے لیے کہا، جس میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد وہ 2019 میں دوبارہ اور 2024 میں تیسری بار بھی متھرا سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔
سینما میں 6 دہائیوں کا رہا دھرمیندر کا کیریئر
دھرمیندر کا کیریئر ہندی سینما میں تقریباً چھ دہائیوں کا رہا ہے۔ انہیں بالی وڈ کا ’ہی مین‘ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1960 میں فلم دل بھی تیرا ہم بھی تیرے سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شولا اور شبنم، ان پڑھ، بندنی، پوجا کے پھول، حقیقت، پھول اور پتھر، انوپما، خاموشی، پیار ہی پیار، تم حسین میں جوان، سیتا اور گیتا، یادوں کی بارات اور شولے جیسی کئی یادگار فلموں میں کام کیا۔
پدم بھوشن سے نوازے گئے اداکار دھرمیندر
دھرمیندر نے شاندار اداکاری کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں خاص جگہ بنائی۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے کئی ایوارڈز بھی جیتے۔ سال 2012 میں انہیں بھارت حکومت کے تیسرے سب سے بڑے سول ایوارڈ پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی فلم فیئر ایوارڈز بھی حاصل کیے۔







