
ھارت کے دفاعی وزیر راجناتھ سنگھ کے حالیہ بیان نے پاکستان کو سخت ناراض کر دیا ہے۔ دراصل دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ سندھ کی زمین چاہے آج بھارت کا حصہ نہ ہو، لیکن تہذیب اور ثقافت کے اعتبار سے سندھ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرحدیں بدل سکتی ہیں اور کون جانتا ہے، کل سندھ دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے۔
پاکستان کا سخت ردِعمل
راجناتھ سنگھ کے اس بیان پر پاکستان نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کایہ تبصرہ گمراہ کن اور خطرناک ہے۔ پاکستان نے الزام عائد کیا کہ یہ بیان ایک توسیع پسندانہ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور تسلیم شدہ سرحدوں کے خلاف ہے۔ پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
اقلیتوں کا مسئلہ
پاکستان نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ اسے اپنے شہریوں کی خصوصاً اقلیتی برادریوں کی سکیورٹی پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے مطابق بھارت کو ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان نے کہا کہ بھارت کو اپنے شمال مشرقی ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مسائل بھی حل کرنے چاہییں، کیونکہ وہ اکثر نظراندازی اور تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ دوبارہ اٹھایا گیا
اس موقع پر پاکستان نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔ پاکستان نے کہا کہ بھارت کو کشمیر تنازعہ کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق نکالنا چاہیے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر اپنی سلامتی اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔
راجناتھ سنگھ نے کیا کہا تھا؟
اپنی تقریر میں راجناتھ سنگھ نے کہا کہ 1947 کی تقسیم کے بعد سندھ صوبہ پاکستان میں شامل ہو گیا تھا، لیکن سندھی ہندوؤں نے اسے کبھی بھارت سے الگ سمجھ کر قبول نہیں کیا۔ انہوں نے لال کرشن اڈوانی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھی ہندو، خصوصاً ان کی نسل، سندھ کو بھارت سے الگ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دریائے سندھ کو پورے بھارت میں مقدس مانا جاتا تھا اور سندھ کے کئی مسلمان بھی اسے مکہ کے آبِ زمزم سے کم مقدس نہیں سمجھتے تھے۔







