
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) اصلاحات کا اگلا مرحلہ کاروباریوں کے لیے ٹیکس تعمیل کے عمل کو مزید آسان بنائے گا اور ریفنڈ کے عمل کو بھی زیادہ سادہ اور تیز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صنعت و کاروبار کے شعبے کا اعتماد بڑھے گا، سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ’وکست بھارت‘ کے ہدف کو مزید مضبوط بنیاد ملے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بات وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہی، جس میں انہوں نے جی ایس ٹی اصلاحات کے اگلے مرحلے کا خاکہ پیش کیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ نئی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات ٹیکس نظام کو زیادہ سادہ، شفاف اور قابل پیش گوئی بنا رہی ہیں، جس سے کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ عام خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
رجسٹریشن سے ریفنڈ تک عمل ہوگا آسان
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی ٹیکس دہندگان کو راحت دینے اور معیشت کو رفتار فراہم کرنے، دونوں مقاصد کو بیک وقت حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ اصلاحات میں رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ریفنڈ، تنازعات کے حل اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) سے متعلق عمل کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔جی ایس ٹی کونسل کی 7 اکتوبر کو ہونے والی میٹنگ سے قبل سیتارمن نے اپنے مضمون میں کہا کہ مجوزہ طریقہ کار میں اصلاحات کا مقصد ٹیکس دہندگان کی جانب سے تعمیل میں لگنے والے وقت اور اخراجات کو کم کرنا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کاروباری طبقے کو کم کاغذی کارروائی کے ساتھ زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔
جی ایس ٹی کلیکشن کا بھی کیا گیا ذکر
وزیر خزانہ نے ستمبر 2025 میں نافذ کیے گئے شرحوں کو معقول بنانے کے عمل کے بعد جی ایس ٹی کلیکشن اور قابل ٹیکس سپلائی کی کارکردگی کا بھی ذکر کیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جی ایس ٹی نے نہ صرف ریونیو کلیکشن کو مضبوط کیا ہے بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ٹیکس دہندگان کی گرفتاری کا اختیار ختم کرنے پر غور
اس دوران آئندہ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں ایک اہم قانونی معاملے پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کونسل اس بات پر غور کر سکتی ہے کہ جی ایس ٹی قانون میں موجود اس شق کو ختم کیا جائے یا نہیں، جس کے تحت تحقیقات کے دوران ٹیکس حکام کو ٹیکس دہندگان کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔یہ تجویز جی ایس ٹی کونسل کی لا کمیٹی کی جانب سے جی ایس ٹی قوانین میں جرائم کی نوعیت کو کم کرنے سے متعلق وسیع تر تجاویز کے ایک حصے کے طور پر دی گئی ہے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ کئی معاملات میں ٹیکس کی ادائیگی میں کوتاہی جان بوجھ کر نہیں ہوتی اور ایسے حالات میں گرفتاری جیسے سخت اقدامات کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
سنگین فراڈ کے معاملات میں کارروائی جاری رہے گی
موجودہ نظام کے تحت سی جی ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 کے مطابق کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر انہیں یقین ہو کہ کسی شخص نے دفعہ 132 کے تحت سنگین جرم کیا ہے تو وہ اس کی گرفتاری کی اجازت دے سکتے ہیں۔ مجوزہ سوچ یہ ہے کہ فرضی انوائس، فرضی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ اور فرضی ریفنڈ دعووں جیسے سنگین معاملات میں کارروائی بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) سمیت عام فوجداری قوانین کے تحت کی جا سکتی ہے۔ اس سے ایماندار ٹیکس دہندگان کے لیے کاروباری ماحول مزید آسان اور سہل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔جی ایس ٹی کونسل کی لا کمیٹی میں مرکز اور ریاستوں کے افسران شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹی جی ایس ٹی قوانین کا قانونی جائزہ لے کر کونسل کو ضروری ترامیم اور وضاحتوں سے متعلق سفارشات پیش کرتی ہے۔







