نئی دہلی : فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی کو لے کر سلمان خان اور اس کے میکرز کے درمیان قانونی جنگ جاری ہے۔ سلمان خان نے فلم کی ریلیز اور تشہیر پر روک لگانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ سلمان کا کہنا ہے کہ فلم میں ان کی زندگی، شناخت اور 1998 کے کالے ہرن کے معاملے سے متعلق چیزوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران فلم کے میکرز نے عدالت کو بتایا کہ فلم ابھی ریلیز کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔
سینسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ ملنا ابھی باقی
فلم پروڈیوسر امت جانی کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے عدالت میں کہا کہ فلم کو ابھی مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ یعنی سینسر بورڈ کے پاس سرٹیفکیٹ کے لیے بھیجا جانا باقی ہے۔ فلم کے مواد کو اب تک سینسر بورڈ سے سرٹیفائی نہیں کیا گیا ہے۔ اس دلیل کے بعد عدالت نے فلم ساز کو 2 ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 30 ستمبر کو ہوگی۔
سلمان خان کے وکیل نے او ٹی ٹی ریلیز کا بھی اٹھایا معاملہ
سلمان خان کی جانب سے اس معاملے کو قدرے مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ معاملہ صرف سنیما گھروں میں فلم کی ریلیز تک محدود نہیں ہے۔ فلم بعد میں کسی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر بھی ریلیز کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے سینسر بورڈ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں او ٹی ٹی ریلیز کو بھی شامل کرلیا ہے۔
پوسٹر اور ٹیزر سامنے آنے کے بعد شروع ہوا تنازع
دراصل پورا تنازع فلم کا پوسٹر اور ٹیزر سامنے آنے کے بعد شروع ہوا۔ سلمان خان کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ فلم میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا ہے جو کافی حد تک ان سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کردار کے ہاتھ میں سلمان خان جیسا مشہور بریسلٹ بھی نظر آیا۔سلمان کا کہنا ہے کہ ان سب چیزوں کے ذریعے انہیں ان کی شناخت سے جوڑ کر دکھایا جارہا ہے اور ان کی اجازت کے بغیر فلم میں ان کی شخصیت کا استعمال کیا گیا ہے۔فلم کے ٹیزر میں 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے معاملے سے متعلق حوالے بھی دکھائے گئے ہیں۔ یہ وہی معاملہ ہے جس سے سلمان خان کا نام طویل عرصے سے جڑا رہا ہے۔ سلمان کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ فلم میں ان کی زندگی سے جڑے تنازع کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے اور اسے فلم کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان کے شخصیت کے حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
ڈائریکٹر نے کہا- فلم سلمان خان پر نہیں ہے
وہیں فلم کے ڈائریکٹر بھارت ایس شری نیت کا کہنا ہے کہ یہ فلم سلمان خان پر مبنی نہیں ہے۔ فلم کا کردار خیالی ہے اور اس کا نام ’ایان خان‘ رکھا گیا ہے۔ ڈائریکٹر نے بریسلٹ کے حوالے سے بھی کہا تھا کہ ایسا بریسلٹ صرف سلمان خان ہی نہیں پہنتے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اداکار کو سلمان خان جیسا دکھانے کے لیے کسی طرح کا مصنوعی میک اپ یا پروستھیٹک میک اپ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
پروموشن اور اسٹریمنگ پر روک لگانے کی بھی مانگ
اس تنازع کے درمیان دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی پہلے بھی کئی بار سماعت ہوچکی ہے۔ سلمان خان کی جانب سے فلم کی ریلیز کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر، مارکیٹنگ اور اسٹریمنگ پر بھی روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔وہیں فلم میکرز اپنی جانب سے ان الزامات کی مخالفت کررہے ہیں۔ ایک سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے فلم کے ٹیزر اور کچھ تشہیری مواد کو ہٹانے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس حکم کے خلاف پروڈیوسر امیت جانی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







