نئی دہلی : کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو بمبئی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصرے سے متعلق ہتکِ عزت کے مقدمے میں مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے جاری سمن کو منسوخ کرنے سے ہائی کورٹ نے منگل (8 ستمبر) کو انکار کردیا۔
’چوروں کے سردار‘ اور ’کمانڈر اِن چیف‘ کہنے کا الزام
شکایت کنندہ مہیش شری شری مال کا الزام ہے کہ ستمبر 2018 میں راجستھان میں ایک ریلی کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ہتکِ عزت پر مبنی بیانات دیے تھے۔ الزام کے مطابق راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو ’چوروں کے سردار‘ اور ’کمانڈر اِن چیف‘ کہا تھا۔بی جے پی کارکن مہیش شری شری مال نے راہل گاندھی کے خلاف گرگاؤں مجسٹریٹ عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس کے بعد مجسٹریٹ عدالت نے اگست 2019 میں راہل گاندھی کو عدالت میں پیش ہونے کا سمن جاری کیا۔ جولائی 2021 میں سمن موصول ہونے کے بعد راہل گاندھی نے ہائی کورٹ میں اس حکم کو چیلنج کیا تھا۔
راہل گاندھی نے کیا دلیل دی؟
راہل گاندھی نے ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ بی جے پی کارکن کی جانب سے دائر کی گئی شکایت قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا تھا اور نہ ہی کسی قابلِ شناخت یا متعین طبقے کو نشانہ بنایا تھا۔ ایسے میں کوئی فرد یا گروہ واضح طور پر متاثرہ فریق نہیں بنتا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کیا کہا؟
ایڈووکیٹ جنرل ملند ساٹھے نے منگل کو عدالت میں اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں جرم کا معاملہ بنتا ہے، جس کی وجہ سے اس مرحلے پر ہائی کورٹ کی جانب سے کارروائی منسوخ کرنے کا اختیار محدود ہوجاتا ہے۔ملند ساٹھے نے دلیل دی کہ CrPC کی دفعہ 199 اور IPC کی دفعہ 499، وضاحت 2 کے تحت بی جے پی کا رکن قانونی طور پر شکایت درج کرانے کا حق رکھنے والا متاثرہ شخص ہے۔
ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی دلیل مسترد کردی
’لائیو لا‘ کے مطابق بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس نتن بورکر نے راہل گاندھی کی دلیل مسترد کردی۔ عدالت نے کہا کہ ایک رجسٹرڈ قومی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے BJP ایک واضح طور پر قابلِ شناخت ادارہ ہے۔جسٹس نتن بورکر نے کہا کہ شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بی جے پی کا فعال رکن رہا ہے۔ بی جے پی کے رکن اور وزیر اعظم کو ’کمانڈر اِن چیف‘ قرار دینے والے بیان کو بادی النظر میں دیکھنے پر اس مرحلے پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ متنازع تبصرہ صرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک محدود تھا۔اس فیصلے کے ساتھ ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے راہل گاندھی کو جاری کیے گئے سمن کو منسوخ کرنے سے انکار کردیا۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







