نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں پانچ منزلہ عمارت منہدم ہونے سے اب تک 7 افراد کی موت کے بعد دہلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جی پی) حکومت اور دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی)پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سی جے پی کے ترجمان سورَو داس نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقے میں غیر قانونی تعمیرات ہوئیں اور ایم سی ڈی یا دیگر مقامی ایجنسیوں نے حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہیں کرایا۔انہوں نے سوال کیا کہ بدعنوان افسران کے خلاف حکومت نے کیا کارروائی کی؟ ان کا کہنا تھا کہ کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک بی جے پی کے لوگ اقتدار میں ہیں، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟
’غیر قانونی تعمیرات کے باوجود PG چل رہا تھا‘
ایک پریس کانفرنس میں سورَو داس نے کہا کہ قومی راجدھانی میں اس طرح کا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایم سی ڈی نے خود تسلیم کیا ہے کہ مذکورہ عمارت ایسے زون میں تعمیر کی گئی تھی جہاں اتنی منزلیں بنانے کی اجازت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ عمارت ایک ایسے پی جی کے طور پر استعمال ہو رہی تھی جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے، لیکن اس کا کوئی منظور شدہ بلڈنگ پلان موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہاں پی جی چلتا رہا۔
’حفاظتی قوانین پر عمل نہیں کیا گیا‘
سورَو داس نے کہا کہ اس معاملے میں ناکامی کی دو سطحیں نظر آتی ہیں۔ پہلی ناکامی غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق ایم سی ڈی اور دیگر مقامی ایجنسیوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان قوانین کو نافذ کرتیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری ناکامی عمارت کے ڈھانچے سے متعلق ہے۔ دہلی یونیورسٹی کیمپس کے آس پاس بڑی تعداد میں طلبہ رہتے ہیں، لیکن اس علاقے میں قواعد و ضوابط کے بغیر نجی پی جی کا کاروبار چل رہا ہے اور اس پر کوئی مؤثر نگرانی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضروری قوانین پر عمل نہ کیے جانے کی یہ صورت حال صرف دہلی تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں بار بار سامنے آ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ کے لیے موجود بنیادی ڈھانچہ شدید خطرات سے دوچار ہے۔
’کونسلر سے پی ایم تک بی جے پی کے لوگ، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟‘
ستیّہ نکیتن حادثے پر سوال اٹھاتے ہوئے سورَو داس نے کہا کہ کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک بی جے پی کے لوگ ہیں، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟ چھتیں کیسے گر رہی ہیں اور آگ کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟انہوں نے کہا کہ دہلی میں اس وقت کونسلر، میئر، ایم ایل اے، رکن پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم سمیت حکومت کے مختلف سطحوں پر بی جے پی کے نمائندے موجود ہیں۔ ان کے مطابق حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو، نقصان عام لوگوں اور بچوں کا ہوتا ہے۔سورَو داس نے کہا کہ ان کی تحریک سے حکومت نے کچھ نہیں سیکھا۔ ذمہ داری صرف افسران کی سطح پر نہیں بلکہ وزارت کی سطح پر بھی طے ہونی چاہیے۔
’بلنک اٹ کی ایمبولینس 15 منٹ میں، ریسکیو ٹیم کو گھنٹے لگتے ہیں‘
حکومتی نظام پر طنز کرتے ہوئے سورَو داس نے کہا، ’’بلنک اٹ کی ایمبولینس 15 منٹ میں پہنچ جاتی ہے، لیکن آفت سے نمٹنے والی ٹیم کو آنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ وہ اسی معاملے پر حکومت سے جواب مانگ رہے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت میں بیٹھے لوگوں نے نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کی طرح زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا ہے، لیکن اب نوجوان بیدار ہوچکے ہیں اور حکومت سے سوال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب نوجوان سوال کرتے ہیں تو انہیں ’ناراض پھوپھا‘ اور ’دماغی نکسل‘ جیسے نام دیے جاتے ہیں۔
’سیاسی سرپرستی کے بغیر غیر قانونی PG نہیں چل سکتا‘
سورَو داس نے دعویٰ کیا کہ عینی شاہدین سے حاصل معلومات کے مطابق ایم سی ڈی نے عمارت کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے نوٹس بھی لگایا تھا، اس کے باوجود وہاں تعمیراتی کام جاری رہا۔ا نہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیرغیرقانونی پی جی کا کاروبار نہیں چل سکتا۔ یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ ان غیر قانونی پی جی کو کس کی سرپرستی حاصل تھی۔CJP کے ایک اور کارکن نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے میں ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی تو دہلی بھی یہی ہے، جنتر منتر بھی یہیں ہے اور وہ بھی یہیں موجود ہیں۔
CJP کے 7 بڑے مطالبات
آزادانہ فوجداری تحقیقات: تنظیم نے آزادانہ مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جس میں صرف عمارت کے مالک ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کی بھی جانچ ہو جن کی سرپرستی سے مبینہ طور پر پی جی مافیا پنپ رہا ہے۔ملک گیر اسٹرکچرل آڈٹ: ملک بھر کی عمارتوں کا انجینئرنگ گریڈ اسٹرکچرل آڈٹ کرایا جائے، خاص طور پر ان عمارتوں کو ترجیح دی جائے جہاں طلبہ رہتے یا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔13 ضلعی کمیٹیوں کا ریکارڈ عام کیا جائے: تعمیرات اور عمارتوں کے آڈٹ کے لیے بنائی گئی 13 ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے تمام ریکارڈ 48 گھنٹوں کے اندر عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ کمیٹی کے ارکان، معائنہ کی گئی عمارتوں اور کی گئی انہدامی کارروائیوں کی تفصیلات بھی جاری کی جائیں۔
طلبہ کے لیے عوامی ویب سائٹ اور ڈیٹا بیس: ایسی ویب سائٹ اور ڈیٹا بیس بنایا جائے جہاں طلبہ معلوم کر سکیں کہ وہ جس جگہ رہ رہے ہیں وہ محفوظ ہے یا نہیں اور اس کے تمام ضروری دستاویزات درست ہیں یا نہیں۔ حکومت کے ساتھ کالجوں اور کوچنگ مراکز کو بھی طلبہ میں بیداری پیدا کرنی چاہیے۔DU میں رہائش کی سہولت بڑھائی جائے: تنظیم کے مطابق دہلی یونیورسٹی میں فی الحال تقریباً 7,000 طلبہ کے لیے رہائش کی سہولت ہے۔ ایک مقررہ مدت کے اندر زیادہ سے زیادہ نئے ہاسٹل تعمیر کیے جائیں۔متاثرین کو معاوضہ: ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 1 کروڑ روپے اور زخمیوں کو 30 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے۔وزیر کی سطح پر جواب دہی طے ہو: تنظیم نے وزیر آشیش سود کی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان کے ماتحت بنائی گئی 13 ضلعی سطح کی کمیٹیوں کا کام بھی اب تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







