
تہواروں کا موسم آتے ہی مٹھائی اور دودھ سے بنی اشیا کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ملاوٹ اور ناقص معیار کی غذائی اشیا کی فروخت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے نوئیڈا اور دہلی-این سی آر میں فوڈ سیفٹی محکمہ نے گزشتہ چند دنوں کے دوران جانچ مہم تیز کر دی ہے۔ تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ دستیاب تازہ رپورٹس میں نوئیڈا کے لیے تمام مٹھائی کی دکانوں کی مجموعی تعداد اور کل ضبط شدہ سامان کا مشترکہ اعداد و شمار جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے مختلف کارروائیوں میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کو الگ الگ سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
نوئیڈا میں کہاں کہاں ہوئی کارروائی؟
نوئیڈا میں 23 اور 24 اگست کو فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کئی مقامات پر جانچ کی۔ 23 اگست کی رات جیور ٹول پلازا پر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔ اس دوران دودھ سے بنی مصنوعات، خاص طور پر پنیر کے نمونے لیے گئے، جنہیں دہلی-این سی آر میں سپلائی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔اس کے بعد 24 اگست کو سیکٹر 134 واقع بی ایس بیکانیر سویٹس سے گھیور کا نمونہ لیا گیا۔ ایکو ٹیک-2 میں شگن سویٹ ہاؤس کی مینوفیکچرنگ یونٹ سے کھویا اور گھیور کے نمونے بھی حاصل کیے گئے۔ یعنی کارروائی صرف دکانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مٹھائی بنانے والی یونٹس اور سپلائی چین کو بھی جانچ کے دائرے میں رکھا گیا۔
سب سے بڑی کارروائی: 100 کلو رس گلے تلف
نوئیڈا کے سیکٹر 72، سراب آباد میں ایک رس گلہ مینوفیکچرنگ یونٹ کی جانچ کے دوران تقریباً 100 کلوگرام رس گلے خراب اور آلودہ حالت میں پائے گئے۔ حکام کے مطابق ان مٹھائیوں پر مکھیاں اور مچھر موجود تھے۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے پوری مقدار کو موقع پر ہی تلف کر دیا۔اس کے علاوہ گڑھی چوکھنڈی میں ایک ڈیری سے تقریباً 300 کلوگرام پنیر انسانی استعمال کے لیے ناموزوں پائے جانے کے بعد ضبط کرکے تلف کر دیا گیا۔ حکام نے اس کا نمونہ جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پنیر ہریانہ کے میوات علاقے سے سپلائی کیا گیا تھا۔
غازی آباد میں ایک ٹن رس گلوں پر کارروائی
غازی آباد میں بھی بڑی کارروائی کی گئی۔ مٹھائی کے ذخیرہ اور مینوفیکچرنگ مرکز پر چھاپے کے دوران تقریباً ایک ٹن یعنی 1,000 کلوگرام رس گلے ضبط کرکے تلف کر دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق وہاں مٹھائیوں میں کیڑے اور مکھیاں پائی گئیں اور صفائی کے انتہائی خراب حالات سامنے آئے۔ حکام نے نمونے لے کر انہیں جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ یعنی صرف نوئیڈا اور غازی آباد میں سامنے آنے والے ان معاملات کو ملا کر تقریباً 1,400 کلوگرام غذائی اشیا کے خلاف کارروائی کی گئی۔
کتنے نمونے لیے گئے؟
24 اگست کی کارروائی میں نوئیڈا کے علاقے سے مجموعی طور پر 7 غذائی نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھیجے گئے۔ ان میں پنیر، گھیور اور کھویا جیسی مصنوعات شامل ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اور معیار کا حتمی پتہ لیبارٹری جانچ کے بعد ہی چل سکے گا۔
دہلی میں بھی بڑا مہم
دہلی میں بھی فوڈ سیفٹی محکمہ نے مٹھائی کی دکانوں اور مینوفیکچرنگ یونٹس کے خلاف مہم چلائی۔ حکام نے 37 غذائی نمونے لیے اور تقریباً 131 کلوگرام زائد المیعاد غذائی اشیا کو موقع پر ہی تلف کر دیا۔ جانچ اوکھلا، بدلی، نہرال وہار اور نریلا کی مٹھائی بنانے والی یونٹس کے علاوہ سبزی منڈیوں میں بھی کی گئی۔
صارفین کیا احتیاط برتیں؟
اس کارروائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بازار میں دستیاب ہر مٹھائی خراب ہے۔ تاہم خریداری کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مٹھائی کی تازگی، رنگ، خوشبو، پیکیجنگ اور ایکسپائری یا ’بیسٹ بِیفور‘ کی معلومات ضرور چیک کریں۔ بہت زیادہ چمکدار یا غیر معمولی نظر آنے والی مٹھائی سے بھی محتاط رہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







