
نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون سیشن جمعرات کوغیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگیا۔ سیشن کے آخری دن لوک سبھا کی کارروائی محض ایک منٹ تک جاری رہی، جبکہ راجیہ سبھا میں تقریباً ایک گھنٹے تک کارروائی ہوئی۔ لوک سبھا میں وزیراعظم نریندرمودی، وزیرداخلہ امت شاہ، پوری مرکزی کابینہ اوراپوزیشن لیڈرراہل گاندھی موجود تھے۔ اسپیکراوم برلا نے ’وندے ماترم‘ گان کے بعد ایوان کی کارروائی غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔
دوسری جانب راجیہ سبھا میں سیشن کے آخری دن مائنزاینڈ منرلز(ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل (MMDR Amendment Bill) منظور کیا گیا۔ کانگریس صدرملکارجن کھرگے نے ہلدوانی میں اپنے پروگرام کے بعد مبینہ طورپرکرائے گئے ’شدھی کرن‘ کے معاملے کوبھی ایوان میں اٹھایا۔
لوک سبھا میں 114 گھنٹے میں سے تقریباً 96 گھنٹے نہیں چلی کارروائی
مانسون سیشن کے دوران لوک سبھا کی مجموعی طورپر19 نشستیں ہوئیں۔ ایوان کی معمول کی کارروائی صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک ہوتی ہے، جبکہ دوپہرایک بجے سے 2 بجے تک کھانے کا وقفہ رہتا ہے۔ اس طرح ایک دن میں تقریباً 6 گھنٹے کارروائی کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ اس حساب سے 19 نشستوں میں تقریباً 114 گھنٹے کارروائی ہونی تھی، لیکن لوک سبھا میں صرف تقریباً 17 گھنٹے 30 منٹ ہی کام ہوسکا۔ اس طرح تقریباً 96 گھنٹے 30 منٹ کارروائی نہیں ہو سکی۔ اس کے مقابلے میں 2025 کا مانسون سیشن 21 جولائی سے 21 اگست 2025 تک چلا تھا۔ اس دوران لوک سبھا اورراجیہ سبھا، دونوں کی 21-21 نشستیں ہوئی تھیں۔ لوک سبھا میں اس سیشن کے دوران صرف 37 گھنٹے کام ہوا تھا۔
راجیہ سبھا میں 114 گھنٹے میں سے تقریباً 76 گھنٹے کارروائی نہیں ہوئی
مانسون سیشن کے دوران راجیہ سبھا کی نشستوں کی تعداد بھی لوک سبھا کے برابر، یعنی 19 رہی۔ اس حساب سے ایوان میں تقریباً 114 گھنٹے کارروائی ہونی تھی، لیکن راجیہ سبھا میں تقریباً 37 گھنٹے 24 منٹ ہی کام ہوا۔ اس طرح راجیہ سبھا میں تقریباً 76 گھنٹے 36 منٹ کارروائی نہیں ہوسکی۔
12 نئے بل پیش، 11 دونوں ایوانوں سے منظور
2026 کے مانسون سیشن کے دوران مجموعی طورپر12 نئے بل پیش کیے گئے۔ ان میں 10 بل لوک سبھا اور 2 بل راجیہ سبھا میں پیش ہوئے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے بلوں کا تعلق ٹیکس، بینکنگ، کان کنی، ٹریبونل، پیدائش واموات کے رجسٹریشن، امتحانات میں نقل روکنے، کیرالہ کا نام تبدیل کرنے اورسپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے جیسے مختلف معاملات سے تھا۔ مائنزاینڈ منرلزترمیمی بل راجیہ سبھا سے بھی منظورہونے کے بعد اب 12 میں سے 11 بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظورہوچکے ہیں۔ صرف انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ بل ابھی دونوں ایوانوں سے منظورنہیں ہوا ہے۔ راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے دونوں بل بھی لوک سبھا سے منظورہوچکے ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






