
نئی دہلی: دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ نے بدھ کے روزجواہرلال نہرویونیورسٹی (جے این یو) اسٹوڈنٹس یونین کی سابق صدرسی پی آئی (ایم) لیڈرآئیشی گھوش کے خلاف جاری غیرضمانتی وارنٹ (این بی ڈبلیو) پرروک لگا دی۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ کے جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس وجے شری راٹھورنے یہ حکم جاری کیا۔ واضح رہے کہ یہ غیرضمانتی وارنٹ سال 2021 کے ایک معاملے میں 12 دسمبر، 2024 اور11 اپریل، 2026 کوجاری کیا گیا تھا۔
دہلی کے بنگا بھون میں ہوئے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق ایک معاملے میں عدالت کی کارروائی میں حصہ نہ لینے کے بعد وارنٹ جاری کئے گئے تھے۔ آئیشی گھوش پرانڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کے سیکشن 188,34 اور447 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ 28 جولائی کوسی پی آئی (ایم) نے الزام لگایا تھا کہ دہلی پولیس اس معاملے میں آئیشی گھوش کوگرفتارکرنے کے لئے زبردستی ان کے ہیڈ کوارٹرمیں داخل ہوئی تھی۔
سی پی آئی دفترمیں تلاشی پرراجیہ سبھا میں ہنگامہ
سی پی آئی دفترمیں تلاشی پرراجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ بھی ہوا تھا۔ اپوزیشن لیڈرملیکا ارجن کھڑگے نے اس موضوع پرحکومت کوزبردست طریقے سے گھیرا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی قومی سیاسی جماعت(نیشنل پولیٹیکل پارٹی) کے دفترمیں پولیس کے گھسنے پرحکومت کوجواب دینا چاہئے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اسے جمہوری اداروں پردباوبنانے کی کوشش قراردیا اورایوان میں زبردست مخالفت کی۔ اس پرایوان کے لیڈراورمرکزی وزیرجے پی نڈا نے اپوزیشن کے الزمات کوخارج کردیا اورکہا کہ دہلی پولیس نے صرف عدالت کے حکم پرعمل کیا ہے۔ یہ پوری طرح لا اینڈ آرڈرکا معاملہ ہے اورپولیس اپنی قانونی ذمہ داری نبھا رہی تھی۔
راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے سوال کا جے پی نڈا نے دیا جواب
بدھ کے روزراجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے دہلی میں آئشی گھوش کوگرفتارکرنے کی کوشش کی مخالفت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے کے خلاف دارالحکومت میں احتجاج کرنے والے طلبا پرپولیس کارروائی کے معاملے پروزیرداخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ایوان میں درج دستاویزات پیش کئے جانے کے فوراً بعد جان برٹاس نے آئشی گھوش کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سادہ لباس میں دہلی پولیس کی ایک ٹیم 2021 میں جے این یواحتجاج سے متعلق معاملے میں آئشی گھوش کوگرفتارکرنے کے لیے پارٹی دفترمیں داخل ہوئی۔ برٹاس نے پولیس کارروائی کوحالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آئشی گھوش کی واحد غلطی یہ تھی کہ انہوں نے جنترمنترپرہونے والے مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ ان کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک قومی سیاسی جماعت کے دفترمیں پولیس کے داخل ہونے کا حکم کس نے دیا؟ حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے ایوان کے لیڈرجے پی نڈا نے کہا کہ یہ ایک عام قانون وانتظام سے متعلق معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کوقانون کے مطابق کارروائی کرنی ہوتی ہے اوردہلی پولیس نے بھی اسی کے مطابق کام کیا ہے۔ جے پی نڈا نے کہا کہ اگرکوئی طالب علم فعال سیاست یا احتجاجی سرگرمیوں میں شامل ہوتا ہے تواسے اس طرح کی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مرکزی وزیرنے اپنے طالب علمی کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی طلبہ تحریک سے وابستہ رہے ہیں اورانہیں بھی ایسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران انہیں کلاس روم سے بھی گرفتارکیا گیا تھا اورایسا دومرتبہ ہوا تھا۔ سی پی آئی (ایم) اوردیگراپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اس معاملے پراحتجاج جاری رکھا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







