
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے درمیان اینٹی پیپرلیک بل منظورکرلیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعد ایوان کی کارروائی جمعرات کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ بل پربحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرجتیندرسنگھ نے اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران نہ کوئی گولی چلی اورنہ ہی پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے بغیرحقائق کے بیان دیا ہے۔ اگراحتجاج کے دوران طلبا پرگولی ہی نہیں چلائی گئی توپھریہ سوال بے معنی ہے کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ جتیندرسنگھ نے واضح کیا کہ گولی چلانے کا حکم حکومت یا وزیرنہیں بلکہ مجسٹریٹ دیتا ہے۔ ان کے مطابق، احتجاج کے دوران مظاہرین کومنتشرکرنے کے لئے صرف آنسوگیس کے گولے استعمال کئے گئے تھے۔
وزیراعظم نہیں بن سکے توپی ایم ہاؤس کے قریب جا بیٹھے: جتیندر سنگھ
جتیندرسنگھ نے راہل گاندھی پرطنزکرتے ہوئے کہا کہ 21 جولائی کووہ وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جا کربیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ وزیراعظم بننے کی خواہش پوری نہیں ہوئی، اس لئے انہوں نے سوچا کہ کم از کم وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب ہی بیٹھ جائیں۔ مرکزی وزیرنے مزید کہا کہ ابتدا میں راہل گاندھی اس احتجاج سے خود کودوررکھے ہوئے تھے کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ یہ عام آدمی پارٹی کی تحریک ہے، لیکن جب احتجاج زورپکڑنے لگا تووہ بھی اس میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب راہل گاندھی کووزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب سے ہٹایا گیا توانہیں سبکی کے ساتھ وہاں سے جانا پڑا۔
بل پرتجاویزدینے کے بجائے سیاست کی گئی: مرکزی وزیر
ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے کہا کہ اتنے اہم بل پرسنجیدہ تجاویزدینے کے بجائے اپوزیشن نے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنی تقریرمیں غیرپارلیمانی زبان استعمال کیا، جوحیران کن ہے۔
مرکزی وزیرنے کہا کہ انہیں تعجب ہے کہ کیا راہل گاندھی کوپارلیمانی کارروائی کے بنیادی اصولوں کا بھی علم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے مستقبل یعنی نوجوانوں کے لئے “احمق” جیسے الفاظ استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔
راہل گاندھی نے کیا کہا تھا؟
اس سے قبل راہل گاندھی نے اینٹی پیپرلیک بل پربحث کے دوران مودی حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے ملک کے تعلیمی نظام پرسوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) نے ملک کے تعلیمی نظام اورامتحانی نظام پرقبضہ کرلیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ صرف وزیرتعلیم کوتبدیل کرنے سے نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق، سابق وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان محض ایک “چہرہ” تھے، جبکہ اصل میں تعلیم کی وزارت آرایس ایس کے اثرورسوخ میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آرایس ایس کے افراد اہم تعلیمی اداروں اوریونیورسٹیوں کے کلیدی عہدوں پرموجود ہیں اورملک کی ہربڑی یونیورسٹی میں آر ایس ایس سے وابستہ وائس چانسلرتعینات ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندرپردھان کے استعفے سے تعلیمی نظام میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اصل کنٹرول آرایس ایس کے ہاتھ میں ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







