
نئی دہلی: پیپرلیک معاملے پرجنترمنترمیں جاری احتجاج ختم ہونے کے باوجود طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کا سلسلہ جاری رہنے پرکاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی حکومت پروعدہ خلافی کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ حکومت نے احتجاج ختم کرنے سے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی بھی احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، لیکن اس کے باوجود مختلف ریاستوں میں نوجوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، گرفتارکیا جا رہا ہے اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ سوربھ داس نے مطالبہ کیا کہ حراست میں لیے گئے یا گرفتارتمام افراد کو ہرحال میں منگل تک رہا کیا جائے اوران کے خلاف درج تمام ایف آئی آرفوری طورپرواپس لی جائیں۔ انہوں نے خبردارکیا کہ اگرایسا نہ ہوا توپارٹی آئندہ کے لائحہ عمل پرغورکرے گی۔
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی طلبا کے خلاف درج کئے جا رہے مقدمات پرسخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف اے کے-47 اورپیلیٹ گن جیسے ہتھیاراستعمال کئے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ “کیا یہ طلبہ دہشت گرد ہیں؟” پرینکا گاندھی نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بہاراورمغربی بنگال میں بھی طلبہ کے خلاف نئی ایف آئی آردرج کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی روش بدلنے کے لئے تیارنظر نہیں آتی۔ انہوں نے طالبات کے حوالے سے بھی تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ کئی لڑکیوں کے والدین کوفون کرکے دھمکایا جا رہا ہے کہ ان کی بیٹیاں احتجاج میں شریک تھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ “کیا اس ملک میں لڑکیاں احتجاج نہیں کرسکتیں؟”
دیپیندرہڈا نے بھی اٹھائے سوالات
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندرہڈا نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے مظاہرین پرانتہائی سخت لاٹھی چارج کیا، جبکہ طلبا کے خلاف پیلیٹ گن کا استعمال بھی کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بہارمیں طلبا کے خلاف اے کے-47 کا استعمال ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ آخرایسے احکامات کون دے رہا ہے؟ وزیراعظم نریندرمودی کواس پورے معاملے پرملک کے سامنے وضاحت دینی چاہئے۔
دیگر ریاستوں میں بھی کارروائی کا الزام
اس سے قبل، سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک پوسٹ میں کہا تھا کہ آسام، مغربی بنگال اوربہارسمیت مختلف ریاستوں سے ایسی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ سرکاری ایجنسیاں طلبا اوردیگرمظاہرین کونشانہ بنا رہی ہیں، انہیں حراست میں لے رہی ہیں یا گرفتارکررہی ہیں، جس پرپارٹی کوشدید تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک گیراحتجاج صرف اس یقین دہانی کے بعد ختم کیا تھا کہ کسی بھی مظاہرین کے خلاف، خواہ وہ بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت والی ریاست ہو، اب یا مستقبل میں کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ایسے میں مختلف ریاستوں سے سامنے آنے والی خبریں حکومت کے وعدے کے برعکس ہیں۔
قانونی مدد فراہم کرنے کا یقین
سوربھ داس نے کہا کہ پارٹی ہرمظاہرین کویقین دلاتی ہے کہ اس کی قانونی ٹیم مختلف ریاستوں کے سینئروکلا کے ساتھ مل کرگرفتارافراد کی رہائی اورانہیں ہرممکن قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے مسلسل کام کررہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش احتجاج کے پہلے دن سے جاری ہے۔ دوسری بات، ہم حکومت ہند، خاص طورپرمرکزی وزرا جے پی نڈا اورڈاکٹرجتیندرسنگھ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم پردیئے گئے اعتماد کا فوری احترام کریں۔ انہیں حراست میں لئے گئے افراد کی رہائی کویقینی بنانا چاہئے اورہدایت کرنی چاہئے کہ ملک میں کہیں بھی کسی مظاہرین کے خلاف کوئی زبردستی یا انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔ درج کی گئی ایف آئی آربھی واپس لی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کو یاد دلایا جاتا ہے کہ انہوں نے کل، منگل (28 جولائی) تک ہمیں اس معاملے میں تحریری ضمانت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ملک گیرمظاہروں کوروکنے کا ہمارا فیصلہ نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا تھا اور صرف اورصرف حکومت کے اس اعتماد پرمبنی تھا کہ وہ اپنی بات کوبرقراررکھے گی۔ اس اعتماد پرواپس جانے سے نہ صرف چیف جسٹس بلکہ لاکھوں نوجوان ہندوستانیوں کے اعتماد کو بھی دھوکہ دیا جائے گا، جنہوں نے احتجاج پربات چیت کا راستہ منتخب کیا۔ نوجوانوں کے لیے ایسی دھوکہ دہی قابل قبول نہیں ہوگی۔झारखंड ट्रेजरी घोटाले में 10 हजार करोड़ का हिसाब गायब, बीजेपी ने सरकार पर लगाया आरोप
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







