
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پیپر لیک کے تمام معاملات میں قصورواروں کو جلد از جلد سخت سزا دینے اور مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کو ضروری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ مرکزی کابینہ کے ارکان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپر لیک کے ذریعے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ اہم قدم سنگ میل ثابت ہوگا۔
نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح: راجناتھ سنگھ
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہندوستان کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنانا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے معاملات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا وزیر اعظم نریندر مودی کا فیصلہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے تئیں ان کے مضبوط عزم اور غیر متزلزل وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے خلاف تیز اور سخت کارروائی یقینی بنائے گا جو ملک کے نوجوانوں کی امیدوں اور مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
پیپر لیک کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: امت شاہ
مرکزی وزیرداخلہ و تعاون امت شاہ نے ’ایکس‘ پر لکھا ’’نوجوانوں کا مفاد اور ان کا روشن مستقبل مودی حکومت کی اولین ترجیح بھی ہے اور عزم بھی۔ وزیر اعظم کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے ذریعے پیپر لیک کے معاملات میں قصورواروں کے خلاف فوری سماعت اور سخت کارروائی کا فیصلہ اسی کا مظہر ہے۔ پیپر لیک کے ذریعے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ اہم قدم سنگِ میل ثابت ہوگا۔‘‘
حکومت نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے پرعزم: جے پی نڈا
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ پیپر لیک جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم مودی کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا عزم حکومت کی حساسیت اور نوجوانوں کے تئیں اس کی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن اور اس کے رہنما راہل گاندھی پارلیمنٹ میں اس اہم موضوع پر بامعنی بحث سے گریز کرتے ہوئے سڑکوں پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کے غیر ذمہ دارانہ اور جمہوری اقدار کے منافی طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
کسی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا: شیوراج سنگھ چوہان
مرکزی وزیر زراعت و بہبودِ کسان شیوراج سنگھ چوہان نے ’ایکس‘ پر لکھا ’’نوجوان طاقت ترقی یافتہ ہندوستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نوجوانوں کے مفادات اور ان کے روشن مستقبل کا تحفظ مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پیپر لیک کے معاملات میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا فیصلہ قصورواروں کو جلد اور سخت سزا یقینی بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
نوجوانوں کی محنت سے کھلواڑ کرنے والوں کے لیے واضح پیغام: بھوپیندر یادو
مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے کہا کہ نوجوانوں کے اعتماد اور ان کے خوابوں کا تحفظ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی نے پیپر لیک جیسے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے مقدمات کے فوری تصفیے اور قصورواروں کو جلد اور سخت سزا دینے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ان عناصر کے لیے واضح پیغام ہے جو نوجوانوں کی محنت اور ان کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ شفاف اور منصفانہ بھرتی کے عمل کی سمت یہ قدم ملک کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پیپر لیک میں ملوث افراد کو سزا ملے گی: پیوش گوئل
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ’’فاسٹ ٹریک عدالتیں اب یہ یقینی بنائیں گی کہ پیپر لیک میں ملوث افراد کو سزا ملے۔ ہندوستان کے نوجوان ہی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو روشن مستقبل ملے اور انہیں اپنی امنگیں پوری کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی جو بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور والدین کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ سے بڑا سوال پوچھنے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں: گجیندر سنگھ شیخاوت
مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا، ’’اپوزیشن میں بیٹھنے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر ملک کو گمراہ کرنے کا لائسنس نہیں مل جاتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہی پیپر لیک کے مسئلے کو پنپنے دیا اور اس کی جڑیں مضبوط کیں۔ ان کے مطابق راجستھان میں اشوک گہلوت حکومت کے دوران مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک کے واقعات اس ناکامی کی کھلی گواہی ہیں۔ گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں حکومتیں نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتی رہیں، جبکہ مودی حکومت نے شور شرابے کے بجائے کارروائی کا راستہ اختیار کیا، سخت قوانین بنائے، نظام کو مضبوط کیا اور اب فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے قصورواروں کو جلد اور سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سوال پوچھنے کے لیے پارلیمنٹ سے بڑا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ حکومت بحث کے لیے تیار تھی، لیکن اپوزیشن نے بحث سے فرار اختیار کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی سیاست کو ترجیح دی۔ ’ہندوستان کے مستقبل‘ کے ساتھ سیاست کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ نوجوانوں کو کھوکھلے نعرے نہیں بلکہ منصفانہ امتحانات اور انصاف چاہیے۔‘‘





