
دہلی کے جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج اور پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر مسلسل بحث جاری ہے۔ یہ تحریک مبینہ NEET پرچہ لیک، بھرتی گھوٹالوں، طلبہ کی خودکشی کے واقعات اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات جیسے تعلیمی مسائل پر مرکوز ہے۔ اس تحریک کی حمایت فلمی دنیا کی بعض شخصیات نے بھی کھل کر کی ہے۔ ایسے میں کئی لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے بڑے ستارے، جیسے وراٹ کوہلی، روہت شرما اور دیگر کرکٹر اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟
بی سی سی آئی کے قواعد کیا کہتے ہیں؟
بی سی سی آئی کے مرکزی معاہدے (سنٹرل کانٹریکٹ) میں شامل کھلاڑیوں کو ضابطۂ اخلاق پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی یا متنازع معاملات پر عوامی بیان دینے یا کسی ایک فریق کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز کریں۔ تاہم، بی سی سی آئی نے ایسا کوئی واضح ضابطہ نہیں بنایا جس کے تحت کھلاڑیوں کو سماجی مسائل پر سوشل میڈیا پوسٹ کرنے سے مکمل طور پر روکا گیا ہو۔ لیکن اگر کسی کھلاڑی کا بیان یا پوسٹ بورڈ، بھارتی ٹیم یا بھارتی کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا سمجھا جائے تو بی سی سی آئی اسے تادیبی معاملہ قرار دے سکتی ہے۔
قواعد کی خلاف ورزی پر کیا ہو سکتا ہے؟
اگر کوئی سنٹرل کانٹریکٹ والا کھلاڑی کسی متنازع سیاسی یا سماجی مہم کی کھل کر حمایت کرتا ہے اور بی سی سی آئی کو محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بورڈ یا بھارتی کرکٹ کی شبیہ متاثر ہوئی ہے، تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس میں وارننگ، جرمانہ، معطلی یا معاہدے سے متعلق دیگر تادیبی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
برانڈ اینڈورسمنٹ بھی ایک اہم وجہ
بی سی سی آئی کے قواعد کے علاوہ بڑے کرکٹرز کے اشتہاری معاہدے بھی ان کے عوامی ردِعمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کئی بڑی کمپنیوں کے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔ متعدد کمپنیاں اپنے معاہدوں میں ’مورالٹی کلاز‘ جیسی شرائط شامل کرتی ہیں، جن کے تحت اگر کسی متنازع معاملے پر بیان دینے سے برانڈ کی ساکھ متاثر ہو تو کمپنی کارروائی کرنے یا معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔







