
نئی دہلی : منہ میں ہونے والے چھالے اگرچہ سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن ان کی وجہ سے کھانے، پانی پینے اور بات کرنے میں شدید تکلیف اور جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ عام طور پر یہ چند دنوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس دوران درد اور سوزش کم کرنے کے لیے کئی گھریلو نسخے آزمائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں استعمال ہونے والی بعض قدرتی اشیا میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں، جو سوزش کم کرنے اور منہ کو آرام پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق منہ کے چھالوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں وٹامن بی12، آئرن یا فولک ایسڈ کی کمی، ذہنی دباؤ، ہارمونز میں تبدیلی، منہ کے اندر چوٹ لگنا یا جسم کی قوتِ مدافعت کا کمزور ہونا شامل ہے۔ اگرچہ گھریلو تدابیر عارضی راحت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن اگر چھالے دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں یا بار بار بنیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
نمک والے پانی سے غرارے
منہ کے چھالوں کے لیے سب سے عام گھریلو علاج نیم گرم نمک والے پانی سے غرارے کرنا ہے۔ نمک میں موجود سوڈیم کلورائیڈ جراثیم کی افزائش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے اینٹی مائیکروبیل خواص منہ میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا کو کم کرتے ہیں، جب کہ غرارے کرنے سے چھالوں والی جگہ صاف رہتی ہے اور سوجن میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
شہد کا استعمال
شہد کو بھی منہ کے چھالوں کے لیے مؤثر قدرتی علاج ماناجاتا ہے۔ اس میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو سوزش اور جراثیم کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ شہد چھالے کے اوپر ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے، جس سے جلن اور درد میں کمی محسوس ہوتی ہے، جب کہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس بھی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔
ناریل کا تیل
ناریل کے تیل میں موجود لورک ایسڈ جراثیم اور سوزش کے خلاف مؤثر مانا جاتا ہے۔ اسے چھالے والی جگہ پر لگانے سے متاثرہ حصہ نم رہتا ہے، جس سے خشکی کم ہوتی ہے اور درد میں آرام مل سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر تیل لگانے سے تکلیف میں اضافہ محسوس ہو تو اس کا استعمال بند کر دینا چاہیے۔
بیکنگ سوڈا
بعض لوگ بیکنگ سوڈا بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس میں موجود سوڈیم بائی کاربونیٹ منہ کے پی ایچ لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جب منہ میں تیزابیت زیادہ ہو تو جلن بڑھ سکتی ہے، جب کہ بیکنگ سوڈا ملا پانی اس کیفیت کو کم کرکے آرام پہنچا سکتا ہے۔
ٹھنڈی چیزوں کا استعمال
برف یا ٹھنڈا پانی بھی وقتی طور پر درد کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹھنڈک سے متاثرہ حصے کی حساسیت کچھ دیر کے لیے کم ہو جاتی ہے، جس سے درد کا احساس کم ہوتا ہے۔ تاہم برف کو براہِ راست اور زیادہ دیر تک چھالے پر نہیں رکھنا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منہ کے چھالے دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں، بار بار ہوتے رہتے ہیں یا ان کے ساتھ شدید درد، بخار یا دیگر علامات بھی ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرانا چاہیے تاکہ اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کیا جا سکے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







