
نئی دہلی: مرکزی وزارت پیٹرولیم نے کہا ہے کہ ای 20 (E20) پٹرول کے استعمال سے بعض گاڑیوں کی مائلیج میں 3 سے 5 فیصد تک کمی آسکتی ہے، تاہم صرف مائلیج کو معیار نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ ای 20 ایندھن کئی اہم فوائد بھی فراہم کرتا ہے، جن میں زیادہ آکٹین ریٹنگ، بہتر اینٹی ناک خصوصیات، بہتر پک اَپ، آسان ایکسیلیریشن اور انجن کا زیادہ صاف آپریشن شامل ہیں۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ای 10 ایندھن کے نفاذ کے سلسلے میں 2020-21 ہی میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے تفصیلی مشاورت کر لی گئی تھی۔ بھارت نے جون 2022 میں پیٹرول میں 10 فیصد ایتھنول آمیزش (E10) کا ہدف مقررہ وقت سے پانچ ماہ پہلے حاصل کر لیا تھا۔ وزارت کے مطابق ای 20 کے نفاذ کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت اور منظم طریقۂ کار اختیار کیا گیا۔ آٹوموبائل کمپنیوں، پرزہ ساز اداروں، جانچ ایجنسیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت کی گئی، جبکہ 2021 ہی میں ای 20 کے لیے روڈ میپ عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا تھا۔
مام تکنیکی پہلوؤں کی جانچ، ماروتی اور ہیرو کا تجربہ مثبت
وزارت نے بتایا کہ ای 20 کے نفاذ سے قبل مٹیریل کی مطابقت، انجن کی کیلیبریشن، فیول سسٹم، گاڑی کی کارکردگی، پائیداری، اخراج (Emission) اور ایندھن کی بچت سمیت تمام تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر آٹوموبائل کمپنیاں نتائج سے مکمل طور پر مطمئن نہ ہوتیں تو نہ وہ اس ایندھن کی حمایت کرتیں اور نہ ہی اپنی گاڑیوں پر وارنٹی فراہم کرتیں۔ آج تقریباً تمام کمپنیاں نئی اور پرانی دونوں قسم کی گاڑیوں کے لیے وارنٹی دے رہی ہیں کیونکہ وہ اس پورے عمل کا حصہ رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق ماروتی سوزوکی نے مالی سال 2025-26 کے دوران 2 کروڑ 84 لاکھ گاڑیوں کی سروسنگ کی، جن میں 1 کروڑ 50 لاکھ ایسی گاڑیاں بھی شامل تھیں جو ای 20 کے لیے سرٹیفائیڈ نہیں تھیں، مگر ان میں ای 20 کے استعمال سے زنگ لگنے، غیر معمولی گھساؤ یا پرزوں کے خراب ہونے جیسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ہیرو موٹو کارپ نے بھی اپنے عملی تجربات میں ایسے ہی مثبت نتائج کی تصدیق کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ زمینی حقائق غیر مصدقہ دعوؤں سے کہیں زیادہ قابلِ اعتماد ہیں۔
پریمیم پٹرول سے موازنہ درست نہیں، ایتھنول کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی سرمایہ کاری
وزارت نے کہا کہ ای 20 ایندھن سے باریک آلودہ ذرات (Fine Particles) کا اخراج کم ہوتا ہے، جبکہ اس کے پورے لائف سائیکل کے دوران کاربن اخراج میں تقریباً 40 فیصد تک کمی آتی ہے۔ بیان کے مطابق ای 20، ای 10 یا خالص پٹرول کے مقابلے میں زیادہ صاف، بہتر معیار کا اور زیادہ مؤثر ایندھن ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ ای 20 کا موازنہ پریمیم پٹرول سے کرنا درست نہیں، کیونکہ پریمیم ایندھن محدود مقدار میں اور زیادہ قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں، جن میں کارکردگی بڑھانے کے لیے خصوصی اضافی مادے (Additives) شامل کیے جاتے ہیں۔ وزارت نے مزید کہا کہ خالص پٹرول، ای 10 اور ای 20 کے لیے الگ الگ سپلائی چین قائم کرنا عملی طور پر نہایت پیچیدہ عمل ہوگا۔ وزارت کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری بینکوں نے ایتھنول کی پیداوار اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر ہر سال تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے ایتھنول آمیزش کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے خصوصی ایتھنول پلانٹس، ڈسٹلریز، ذخیرہ گاہیں اور لاجسٹکس کا مضبوط نیٹ ورک بھی تیار کیا گیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







