رام مندرچڑھاوا چوری معاملے میں چمپت رائے کا استعفیٰ منظورہونے اوررام مندرٹرسٹ سے ان کا باضابطہ تعلق ختم ہونے کے باوجود مندرانتظامیہ میں ان کا اثرورسوخ برقراردکھائی دے رہا ہے۔ عبوری جنرل سکریٹری کرشن موہن کے ساتھ ٹرسٹ کے بینک کھاتوں کے انتظام کی ذمہ داری چمپت رائے کے دومعتمد ساتھیوں، چندن رائے اورانجینئرجگدیش آفلے، کوسونپ دی گئی ہے۔ 6 جولائی کوچمپت رائے اورانل مشرا کا استعفیٰ منظورکئے جانے کے بعد کرشن موہن کوعبوری جنرل سکریٹری مقررکیا گیا تھا۔ مستقل جنرل سکریٹری کی تقرری تک وہ ٹرسٹ کے تمام انتظامی امورسنبھالیں گے۔ ٹرسٹ کے مختلف بینکوں میں متعدد کھاتے ہونے کی وجہ سے ان کی معاونت کے لئے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ چندن رائے اورانجینئرجگدیش آفلے کوبھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
چمپت رائے کے قریبی افراد کا انتظامی کرداربرقرار
چندن رائے طویل عرصے سے رام مندرٹرسٹ سے وابستہ ہیں اورچمپت رائے کی نگرانی میں آڈٹ اوردیگر مالیاتی امورانجام دیتے رہے ہیں۔ انجینئرجگدیش آفلے کا تعلق ریاست مہاراشٹرسے ہے۔ وہ رام مندرمیں پران پرتِشٹھا تقریب کے دوران ایودھیا آئے تھے اوربعد ازاں وہیں قیام پذیرہوگئے۔ چمپت رائے کے قریبی ساتھی کی حیثیت سے وہ مندرکے مختلف انتظامی معاملات میں سرگرم رہے ہیں۔ گرچہ چمپت رائے اب باضابطہ طورپرٹرسٹ کا حصہ نہیں ہیں، تاہم ان کے قریبی ساتھی اب بھی انتظامی ڈھانچے میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔
چمپت رائے نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا پر اٹھائے سوالات
چمپت رائے نے اپنے استعفے کی منظوری کے بعد اس معاملے میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے کردارپربھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ہندی میں دیئے گئے اپنے ایک صفحے کے تحریری بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ بینک کے قواعد کی خلاف ورزی ہوتی رہی، لیکن اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام بینکوں میں چیسٹ روم (جہاں نقد رقم محفوظ رکھی جاتی ہے) سے متعلق سخت ضابطے موجود ہوتے ہیں، جن میں اندر داخل ہونے اور باہر نکلنے کے وقت تلاشی لینا اور بغیر جیب والی وردی پہننا شامل ہے۔
چمپت رائے کے مطابق، “بینک نے ان قواعد پر عمل نہیں کیا، حالانکہ یہ ہدایات گائیڈ لائن میں واضح طور پر درج تھیں۔ بینک کی جانب سے ابتدا میں جو وردیاں فراہم کی گئیں، ان میں جیبیں موجود تھیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ بینک نے چیسٹ روم سے متعلق اپنے ہی حفاظتی ضابطوں کو نظر انداز کیا اور بینک کے اعلیٰ حکام سے سوال کیا کہ آخر اتنی بڑی لاپروائی کیسے برتی گئی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







