
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین اعزاز ’بنتانگ آدی پورنا آف دی ریپبلک آف انڈونیشیا‘ میڈل سے نوازے جانے پر انڈونیشیا کی حکومت، صدر پرابوو سوبیانتو اور وہاں کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، گہرے اور صدیوں پر محیط تعلقات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اس اعزاز کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز صرف ان کا نہیں بلکہ بھارت کے 140 کروڑ عوام کا اعزاز ہے اور یہ انڈونیشیا کے عوام کی محبت، احترام اور خیر سگالی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، “میں ‘بنتانگ آدی پورنا آف دی ریپبلک آف انڈونیشیا’ کو انتہائی انکساری کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ یہ اعزاز بھارت کے عوام کے نام ہے۔ یہ انڈونیشیا کے عوام کی گرمجوشی اور محبت کی علامت ہے، ساتھ ہی بھارت اور انڈونیشیا کے تاریخی اور گہرے تعلقات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ میں صدر پرابوو، انڈونیشیا کی حکومت اور عوام کا اس خصوصی اعزاز پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔”
اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے وزیراعظم مودی کو ملک کے سب سے بڑے شہری و عسکری اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا۔ 1959 میں قائم کیا گیا ’بنتانگ آدی پورنا‘ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ اس اعزاز کے ساتھ وزیراعظم مودی کے نام دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے دیے جانے والے اعلیٰ ترین اعزازات کی فہرست میں ایک اور اہم اضافہ ہو گیا ہے۔دورہ انڈونیشیا کے دوران وزیراعظم مودی نے جکارتہ میں صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی کی، جس میں دفاع، سلامتی، بحری تعاون، تجارت، زراعت، انسانی وسائل کی ترقی، غذائی تحفظ اور صحت سمیت کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے بعد وزیراعظم مودی نے ایک اور پیغام میں کہا کہ استانہ مردیکا میں صدر پرابوو کے ساتھ نہایت مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات کو نئی رفتار اور مزید گہرائی ملی ہے، جبکہ موجودہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے کی دو اہم بحری طاقتیں ہیں، اس لیے دفاع، سلامتی اور بحری تعاون دونوں ممالک کی شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خلائی تحقیق، ٹیلی کمیونی کیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور دیگر ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں قریبی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، تاکہ دونوں ممالک کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







