
مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جمعرات (2 جولائی) کوترنمول کانگریس کے باغی ارکان کے ایک گروپ نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اوردعویٰ کیا کہ انہیں پارٹی کے دوتہائی سے زائد ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد رتبرتا بنرجی نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا، “22 جون کوکولکاتا میں ہمارے وفد کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں قومی کمیٹی کا انتخاب کیا گیا۔ 23 جون کوہم نے اس کی اطلاع الیکشن کمیشن کودے دی تھی اورملاقات کے لئے وقت بھی طلب کیا تھا۔ آل انڈیا ترنمول کانگریس کے دوتہائی سے زیادہ اراکینِ اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ کونسلراورضلع پریشد کے اراکین بھی ہماری حمایت کررہے ہیں۔”
رتبرتا بنرجی نے کہا کہ ان کی جدوجہد اس سیاسی کلچرکے خلاف ہے، جس میں زمینی سطح کی ایک پارٹی کوخاندانی سیاست تک محدود کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، “ہماری لڑائی آمریت، پارٹی پرایک خاندان کے غلبے، سنڈیکیٹ راج اوربدعنوانی کے خلاف ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال اسی کرپشن کے خلاف عوامی ردِعمل کا نتیجہ ہے۔”
‘اصل ترنمول کانگریس ہم ہیں’
پارٹی میں اختلافات کے بارے میں سوال پررتبرتا بنرجی نے کہا، “ترنمول کانگریس میں ٹوٹ پھوٹ کی بات درست نہیں، کیونکہ اصل ترنمول کانگریس توہم ہی ہیں۔ ہم نے 23 جون کوہی الیکشن کمیشن کوخط لکھ کراپنی پوزیشن واضح کردی تھی۔ ممتا بنرجی یا ابھیشیک بنرجی کیا کہتے ہیں، اس سے ہمیں کوئی سروکارنہیں۔”
64 اراکینِ اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ
294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی میں ترنمول کانگریس کے کل 80 ارکانِ اسمبلی ہیں۔ رتبرتا بنرجی نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ 64 ارکانِ اسمبلی ان کی حمایت کررہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اورابھیشیک بنرجی کے وفاداراصل ترنمول گروپ کے ساتھ اس وقت صرف 20 اراکین باقی رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب، اسمبلی اسپیکرکوسونپے گئے اس قرارداد میں کچھ اراکینِ اسمبلی کے مبینہ دستخط سے متعلق جانچ بھی سی آئی ڈی کررہی ہے، جس میں سوویندیب چٹوپادھیائے کوقائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) ، اسیما پاترا اورنینا بندھوپادھیائے کوڈپٹی اپوزیشن لیڈراورفرہاد حکیم کوترنمول کانگریس قانون سازپارٹی کا چیف وہِپ نامزد کیا گیا تھا۔
سی آئی ڈی نے شروع کی تحقیقات
رتبرتا بنرجی اورسندیپن ساہا کے دستخطوں میں مبینہ گڑبڑی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سی آئی ڈی نے تحقیقات کا آغازکردیا۔ اس کے فوراً بعد ترنمول کانگریس نے دونوں لیڈران کومعطل کر دیا۔ بعد ازاں رتبرتا بنرجی کی قیادت میں تقریباً 60 اراکین اسمبلی نے بغاوت کرتے ہوئے خود کواکثریتی گروپ قراردیا اوراسمبلی اسپیکرکونئی قرارداد پیش کی۔ اسپیکرنے اس قرارداد کو قبول کرتے ہوئے رتبرتا بنرجی کوباضابطہ طوراپوزیشن لیڈرکے طورپرتسلیم کر لیا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







