
لکھنؤ: ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے اور عطیات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے تنازع کے درمیان سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اب ’’کاگ بھسُنڈی‘‘ کے غائب ہونے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت اور جانچ کے عمل پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے بغیر تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ایسی کمان کی مانند ہے جس میں تیر ہی موجود نہ ہو۔
عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ رام مندر میں چڑھاوے، چندے اور عطیات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے نئے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں، جس سے عقیدت مندوں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی نیت اور اس کی مؤثریت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی حقیقت جاننے سے زیادہ معاملے کو دبانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
’کاگ بھسُنڈی‘ کے غائب ہونے کا دعویٰ
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایف آئی آر کے بغیر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا قیام بے معنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب چندے میں دی گئی ’’کاگ بھسُنڈی‘‘ کے غائب ہونے کی افسوسناک خبر بھی سامنے آئی ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جس طرح روزانہ چڑھاوے، چندے اور عطیات میں مبینہ چوری کے نئے انکشافات ہو رہے ہیں اور سناتن دھرم کے ماننے والوں میں ناراضی بڑھ رہی ہے، اس کے پیش نظر نیپال اور دیگر سرحدی راستوں پر کڑی نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ کوئی ملزم فرار نہ ہو سکے۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی افادیت پر سوال
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب روزانہ نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں تو پھر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ آخر کیا حاصل کرے گی، خاص طور پر اس صورت میں جب یہ ’جانچ‘ سے زیادہ ’ڈھانک‘ کے لیے بنی ہے یا ’بانٹ‘کے لیے۔
حکومت نے تشکیل دی تھی ایس آئی ٹی
واضح رہے کہ رام مندر کے چڑھاوے اور عطیات کی رقم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ کے لیے تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اس ٹیم میں لکھنؤ ڈویژن کے کمشنر وجے وشواس پنت، لکھنؤ زون کی پولیس انسپکٹر جنرل کرن ایس اور محکمہ خزانہ کے خصوصی سکریٹری نیل رتن شامل ہیں۔
حکومت کے حوالے ہوئی ابتدائی رپورٹ
جانچ ٹیم نے گزشتہ دنوں ایودھیا میں مختلف فریقوں سے پوچھ گچھ کرنے کے ساتھ متعلقہ دستاویزات اور مالی ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ جانچ مکمل کرنے کے بعد ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے۔ حالانکہ، حکومت کا کہنا ہے کہ جانچ کا عمل ابھی جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید شواہد جمع کیے جائیں گے اور متعلقہ افراد سے دوبارہ پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ جانچ کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







