
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کی اس عرضی کو خارج کر دیا، جس میں انہوں نے اپنی نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے سماعت کے دوران کہا، ’’ہم اس عرضی پر غور کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں، لہٰذا اسے خارج کیا جاتا ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی سے متعلق اس کے مشاہدات مستقبل میں متعلقہ ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی کسی بھی انتخابی عرضی پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ میناکشی نٹراجن کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جس مقدمے کا حوالہ دے کر نامزدگی مسترد کی گئی، اس میں ابھی تک الزامات طے نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ (آر او پی ایکٹ) کے تحت نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الزامات کا طے ہونا ضروری شرط ہے۔
میناکشی نٹراجن کا الیکشن کمیشن پر حملہ
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میناکشی نٹراجن نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں، لیکن الیکشن کمیشن کے کردار پر انہوں نے شدید سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا، ’’میں پہلے دن سے کہہ رہی ہوں کہ الیکشن کمیشن بری طرح سمجھوتہ شدہ ادارہ بن چکا ہے اور آج یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔‘‘
نامزدگی کیوں مسترد کی گئی؟
یاد رہے کہ مدھیہ پردیش کی تین راجیہ سبھا نشستوں میں سے ایک کے لیے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر نے اس بنیاد پر مسترد کر دیے تھے کہ انہوں نے اپنے حلف نامے میں ایک زیر التوا فوجداری مقدمے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
کانگریس کی الیکشن کمیشن سے شکایت
نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دریں اثنا، کانگریس نے آج نئی دہلی میں جنتر منتر پر ستیہ گرہ کا انعقاد کیا اور الزام لگایا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے معاملے میں ان کے امیدوار کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
-1780566388485_m.webp)






