
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا بحران کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک طرف پارٹی میں استعفوں کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری جانب مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جماعت کے 57 اراکینِ اسمبلی نے ان کی مرضی کے خلاف اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کر لیا ہے۔ ان تمام سیاسی ہلچل کے درمیان یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑنے لگیں کہ شاید ٹی ایم سی مستقبل میں کانگریس میں ضم ہو سکتی ہے۔ تاہم کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے حقیقت واضح کر دی ہے۔
جے رام رمیش نے کیا کہا؟
جے رام رمیش نے ان میڈیا رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی کی حالیہ ملاقات دونوں جماعتوں کے انضمام سے متعلق تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’محترمہ سونیا گاندھی اور محترمہ ممتا بنرجی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں بعض خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں لیڈرؤں کے طویل تعلقات کے پیشِ نظر متعدد ذاتی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔‘‘
ملاقات کے بعد کیوں بڑھیں قیاس آرائیاں؟
منگل کو نئی دہلی میں سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی کے درمیان تقریباً 30 منٹ تک ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعلقات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق دونوں لیڈرؤں نے ماضی کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر انڈیا (INDIA) اتحاد کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس سے ایک روز قبل اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ بھی ہوئی تھی جس میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کیا گیا تھا۔
اپوزیشن اتحاد پر توجہ
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کانگریس اور ٹی ایم سی کے درمیان بڑھتی قربت اپوزیشن اتحاد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں حالیہ سیاسی چیلنجز اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کے بعد ممتا بنرجی بھی اپوزیشن اتحاد کو زیادہ اہمیت دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔اسی تناظر میں سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی کی گرمجوش ملاقات کو اپوزیشن اتحاد کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم جے رام رمیش کی وضاحت کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ فی الحال ٹی ایم سی کے کانگریس میں انضمام سے متعلق تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور ملاقات کا مقصد صرف سیاسی رابطے اور اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانا تھا۔







