
مغربی بنگال کی سیاست پر طویل عرصے تک اپنی مضبوط گرفت رکھنے والی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس (TMC) اس وقت شدید سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور کئی رہنما کھل کر قیادت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 60 سے زائد اراکینِ اسمبلی پارٹی سے دوری اختیار کر چکے ہیں، جبکہ دہلی میں موجود بعض ارکانِ پارلیمنٹ بھی قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔
کلیان بنرجی کا الٹی میٹم
سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب ممتا بنرجی کے قریبی اور بااعتماد رہنما کلیان بنرجی نے ہی باغیانہ رویہ اختیار کر لیا۔ ممتا بنرجی نے حال ہی میں انہیں چیف وہپ مقرر کیا تھا اور اس کے لیے اپنی پرانی ساتھی کاکولی گھوش کو اس عہدے سے ہٹایا تھا۔
تاہم اب کلیان بنرجی کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یا تو ابھیشیک بنرجی کو ترجیح دیں یا پھر ان رہنماؤں کو جو برسوں سے پارٹی کے وفادار رہے ہیں۔
ابھیشیک بنرجی پر براہِ راست حملہ
کلیان بنرجی نے کھل کر کہا کہ انہیں ابھیشیک بنرجی پر کبھی اعتماد نہیں رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک مبینہ جعلی دستخط کیس میں وکیل تبدیل کرنے کا فیصلہ انہیں آدھی رات کو بتایا گیا، جسے انہوں نے اپنی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ’’کچرے دان‘‘ جیسا سلوک کیا گیا۔ انہوں نے ابھیشیک بنرجی کو غرور کا شکار قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’آخر ابھیشیک ہیں کون؟‘‘ کلیان کے مطابق ابھیشیک کی پالیسیوں اور رویّے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔
’’میں دی دی کے ساتھ ہوں، لیکن…‘‘
کلیان بنرجی نے واضح کیا کہ وہ اب بھی ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن اب فیصلہ ممتا کو کرنا ہوگا کہ انہیں پارٹی اور وفادار رہنما عزیز ہیں یا پھر خاندان اور قریبی رشتہ دار۔ ان کا یہ بیان ترنمول کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اختلافات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا یہ ٹی ایم سی کے لیے آخری دھچکا ہے؟
کلیان بنرجی کو طویل عرصے سے ممتا بنرجی کے سب سے وفادار ساتھیوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ انتخابی شکستوں اور سیاسی بحرانوں کے دوران بھی وہ پارٹی کے اہم قانونی معاملات میں پیش پیش رہے۔ اسی لیے سیاسی مبصرین ان کی ناراضی کو ٹی ایم سی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔
مسلسل لگنے والے جھٹکے
کلیان بنرجی کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل ہی ممتا بنرجی کو دو اور سیاسی جھٹکے لگے تھے۔ پرکاش چک برائک نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا، جبکہ پرَسون بنرجی بھی کاکولی گھوش کے حامی گروپ میں شامل ہو گئے اور لوک سبھا میں علیحدہ گروپ کی منظوری کے مطالبے والے خط پر دستخط کر دیے۔
بڑھتا ہوا بحران
پارٹی سے مسلسل رہنماؤں کی علیحدگی اور اندرونی اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترنمول کانگریس ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ممتا بنرجی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب پارٹی کو متحد رکھنا اور اختلافات پر قابو پانا ہے، جبکہ کلیان بنرجی کی کھلی بغاوت نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔







