
مغربی بنگال کے فالتا حلقے سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سابق رکنِ اسمبلی جہانگیر خان کو اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں نیپال سرحد کے قریب اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر نیپال جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جہانگیر خان کو اپنے علاقے میں ایک بااثر سیاسی لیڈر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران ان کا نام خاصا زیرِ بحث رہا اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ایم سی لیڈر پر ووٹروں کو دھمکانے اور خوف زدہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ مقامی سطح پر ان کے خلاف متعدد شکایات درج ہو چکی ہیں۔ وہ خود کو فلمی کردار ’پشپا‘ کے انداز میں پیش کرتے تھے، تاہم انتخابی سیاست سے پیچھے ہٹنے کے باوجود ان کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں آخرکار ایس ٹی ایف نے انہیں گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کی وجہ کیا ہے؟
مغربی بنگال میں ٹی ایم سی لیڈر جہانگیر خان کی گرفتاری کو ایس ٹی ایف کی ایک بڑی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں جہانگیر خان اور ان سے مبینہ طور پر وابستہ نیٹ ورک سے متعلق مختلف معاملات کی جانچ کر رہی ہیں۔ افسران کے مطابق گرفتاری کے بعد ان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی اور پہلے سے درج مقدمات کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ریاست میں جرائم اور سیاسی اثر و رسوخ کے درمیان ممکنہ تعلقات کی جانچ کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان پر عائد الزامات کی حقیقت اور ان کے کردار کے بارے میں حتمی فیصلہ تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
’سونار فالتا‘ بنانے کا خواب
انتخابات کے دوران نامزدگی واپس لیتے وقت جہانگیر خان نے کہا تھا کہ ان کا مقصد فالتا میں امن و امان برقرار رکھنا، سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور ترقیاتی کاموں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے خود کو فالتا کا مقامی باشندہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خواب علاقے کو ’سونار فالتا‘بنانا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ریاستی حکومت اور وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے علاقے کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے اور خصوصی پیکیج فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ علاقے کی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دیتے ہوئے انتخابی میدان سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ تاہم اب ان کی گرفتاری نے ریاست کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اس معاملے پر مختلف سیاسی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







