
پٹنہ: بہار میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار 30 اپریل کو بہار قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، جبکہ 13 اپریل کے بعد وہ کسی بھی وقت وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے بھی دستبردار ہو سکتے ہیں۔ یہ اطلاع وزیرِ اعلیٰ رہائش گاہ سے وابستہ ذرائع نے دی ہے۔
راجیہ سبھا میں کامیابی کے بعد نئی صورتحال
نتیش کمار، جو اس وقت بہار قانون ساز کونسل کے رکن ہیں، 16 مارچ کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات میں پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ ضابطوں کے مطابق پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے کے 14 دن کے اندر انہیں ریاستی مقننہ کی رکنیت سے استعفیٰ دینا ضروری ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر نتیش کمار اسمبلی یا قانون ساز کونسل کے رکن نہیں رہتے تو انہیں وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے بھی استعفیٰ دینا ہوگا۔
’سمردھی یاترا‘ میں خاموشی
راجیہ سبھا کی رکنیت کے معاملے پر وزیرِ اعلیٰ نے اپنی “سمردھی یاترا” کے پانچ مراحل کے دوران کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ یہ یاترا 26 مارچ کو پٹنہ میں ختم ہوئی تھی۔ اس دوران انہوں نے 32 اضلاع میں 32 عوامی جلسوں سے خطاب کیا، لیکن کہیں بھی راجیہ سبھا جانے یا وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ، حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں انہوں نے نامزدگی داخل کی اور پہلی بار ایوانِ بالا کے رکن منتخب ہوئے۔
اسمبلی اسپیکر کا بیان
ہار اسمبلی کے اسپیکر پریم کمار نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے 30 اپریل کو استعفیٰ دینے کی اطلاع ہے۔ اس کے بعد وہ راجیہ سبھا کی رکنیت سنبھالیں گے۔ ایم ایل سی عہدے سے استعفے کی خبروں پر بہار حکومت کے وزیر اشوک چودھری نے کہا کہ نتیش کمار کا ایوان سے جانا پورے بہار کے لیے افسوسناک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کے مطابق یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ دہلی جائیں، لیکن سیاست میں حالات کے مطابق فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ ایوان کا رکن رہنا یا نہ رہنا اہم نہیں، بلکہ ریاست کے لیے کسی لیڈر کا مؤثر ہونا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔






