
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایران بحران کے حوالے سے ہوئی بات چیت کی تعریف کی ہے۔ حالانکہ، یہ واضح نہیں ہے کہ اس گفتگو میں ایلن مسک بھی شامل تھے یا نہیں۔
پریس سیکرٹری کی وضاحت
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے آئی اے این ایس سے کہا، ’’صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان تعلقات اچھے ہیں اور یہ بات چیت مفید رہی۔‘‘ انہوں نے یہ بات اس خبر کے جواب میں کہی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دونوں لیڈران کی گفتگو میں ایلین مسک بھی شامل تھے۔ وائٹ ہاؤس نے نیو یارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ
نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دو امریکی حکام کے مطابق، اس گفتگو میں مسک کی موجودگی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دنیا کے سب سے امیر شخص اور صدر ٹرمپ کے درمیان تعلقات دوبارہ بہتر ہو رہے ہیں۔ اخبار نے آگے کہا، ’’پچھلے سال گرمیوں میں دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جب مسک نے حکومت میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ انہیں حکومت میں عملے کی تعداد کم کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں کے تعلقات بہتر ہو گئے ہیں۔‘‘
بات چیت کے موضوعات
خبروں کے مطابق، اس گفتگو میں مغربی ایشیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات ہوئی، خاص طور پر ہرمز سٹریٹ کے حوالے سے۔ یہ ایک اہم سمندری راستہ ہے، جس سے دنیا کے بڑے پیمانے پر تیل کی فراہمی ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران سے متعلقہ واقعات اور سمندری نقل و حرکت میں رکاوٹ کے خدشات کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم کی وضاحت
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس سمندری راستے کا کھلا، محفوظ اور روانی میں رہنا پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس معاملے پر امن اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کے لیے رابطے میں رہنے پر متفق ہوئے ہیں۔‘‘
ایلین مسک کی شمولیت پر سوالات
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک نجی کاروباری ہونے کے باوجود ایلین مسک کا اس گفتگو میں شامل ہونا غیر معمولی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ انہیں کیوں شامل کیا گیا یا انہوں نے بات چیت میں حصہ لیا یا نہیں۔
ہرمز سٹریٹ کی اہمیت
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہرمز اسٹریٹ کو بند کیے جانے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہاں کوئی رکاوٹ آئے تو اس کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو تیل درآمد کرتے ہیں۔







