
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بی جے پی کے سینئر رہنما، ہماچل پردیش سے رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان پر بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) میں عہدہ سنبھالنے سے متعلق عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد انوراگ ٹھاکر اب بی سی سی آئی کے عہدیدار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے سال 2017 میں دیے گئے اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ انوراگ ٹھاکر پر لگائی گئی پابندی تاحیات نااہلی کے طور پر نافذ نہیں کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت اس کا مقصد مستقل پابندی لگانا نہیں تھا اور نہ ہی ایسا کرنا مناسب سمجھا گیا تھا۔
لوڑھا کمیٹی کی سفارشات کا پس منظر
قابل ذکر ہے کہ سال 2017 میں لوڑھا کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے کے باعث انوراگ ٹھاکر کو بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ لوڑھا کمیٹی کے اصلاحاتی ضابطوں میں عمر کی حد، ایک عہدے پر قیام کی مدت اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے لیے سخت شرائط شامل تھیں۔ عدالت کا ماننا تھا کہ بی سی سی آئی میں شفافیت اور بہتر انتظامی نظام کے لیے ان اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہے، مگر انوراگ ٹھاکر کی جانب سے ان پر مکمل عمل درآمد نہ کیے جانے کی وجہ سے ان کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔
اب دوبارہ شرکت کی اجازت
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بینچ نے 2017 کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے انوراگ ٹھاکر کو بی سی سی آئی کی داخلی، انتظامی اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ انوراگ ٹھاکر پہلے ہی بغیر کسی شرط کے معافی مانگ چکے ہیں، جسے عدالت نے قبول کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جنوری 2017 میں عائد کی گئی پابندی کا مقصد مستقل نااہلی نہیں تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدل چکے ہیں اور اس تناظر میں پابندی کو برقرار رکھنا مناسب نہیں۔
کرکٹ انتظامیہ میں اہم پیش رفت
قانونی ماہرین اور کھیل سے وابستہ حلقوں کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہندوستانی کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ انوراگ ٹھاکر ایک بار پھر بی سی سی آئی کے انتظامی امور میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔







