
نئی دہلی: مغربی بنگال میں رواں سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اسی سلسلے میں جمعرات کے روز کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نئی دہلی میں 10 راجاجی مارگ پر پارٹی کی مغربی بنگال قیادت کے ساتھ ایک اہم اور فیصلہ کن میٹنگ کی۔ اس ملاقات میں انتخابی حکمت عملی، زمینی سیاسی صورتحال، پارٹی تنظیم کی مضبوطی اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی بنگال کی سیاست تیزی آگئی ہے اور حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ کانگریس قیادت اس میٹنگ کے ذریعے ریاست میں پارٹی کے رول کو ازسرِنو متعین کرنے اور انتخابی میدان میں مؤثر موجودگی درج کرانے کی کوشش کررہی ہے۔
اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کی حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے بنگال کے کانگریسی لیڈروں سے انتخابی تیاریوں، مقامی مسائل، تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی اور ووٹروں تک رسائی کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کانگریس کو عوامی مسائل، مہنگائی، بے روزگاری، خواتین کی سلامتی اور بدعنوانی جیسے موضوعات کو انتخابی مہم کا مرکز بنانا چاہیے۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ زمینی سطح پر سرگرم ہو کر عوام کے درمیان جائیں، ان کے مسائل سنیں اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ ملکارجن کھڑگے نے تنظیمی اتحاد اور نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں کامیابی کے لیے مضبوط تنظیم اور واضح حکمت عملی ناگزیر ہے۔
ٹی ایم سی اور کانگریس اتحاد پر ابہام برقرار
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ ترنمول کانگریس اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کا حصہ ہے، تاہم اب تک ٹی ایم سی نے کانگریس یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ ریاستی سطح پر اتحاد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بات چیت شروع نہیں کی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے بنگال میں اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کا فائدہ براہ راست بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ کانگریس قیادت کی حالیہ میٹنگ کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں پارٹی نے اکیلے میدان میں اترنے یا ممکنہ اتحاد کی صورتوں پر بھی غور کیا۔
بی جے پی کی انتخابی تیاریوں میں تیزی
دوسری جانب بی جے پی بھی مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے۔ منگل کے روز بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر سکانتا مجمدار کی رہائش گاہ پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں بی جے پی کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان کے علاوہ نئے منتخب ممبر پارلیمنٹ بھی شریک ہوئے۔ پارٹی قیادت نے انتخابی حکمت عملی، عوامی رابطہ مہم اور تنظیمی مسائل پر رہنمائی فراہم کی۔
مغربی بنگال میں سہ رخی مقابلے کے آثار
موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے مغربی بنگال میں سہ رخی مقابلے کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ممتا بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی اقتدار بچانے کی کوشش میں ہے، تو دوسری جانب بی جے پی پوری قوت کے ساتھ حکومت پر قبضہ جمانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس بھی اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کے لیے بھرپور تیاری میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس اور ٹی ایم سی کے درمیان انتخابی مفاہمت نہ ہوسکی تو اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو مل سکتا ہے، جس سے ریاست کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر ممکن ہے۔







