
ئی دہلی: لوک سبھا میں گزشتہ کئی دنوں سے زبردست ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔ گزشتہ روزبھی زبردست ہنگامہ ہوا۔ اس دوران الزام ہے کہ اپوزیشن کی خواتین اراکین پارلیمنٹ وزیراعظم مودی کی کرسی تک پہنچ گئی تھیں، جس کے بعد ہنگامہ مزید بڑھ گیا۔ اسی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وزیراعظم مودی کا خطاب بھی نہیں ہوسکا تھا۔ اس پورے معاملے پراسپیکراوم برلا نے ایوان میں کہا کہ کل وزیراعظم کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ ماحول کودیکھتے ہوئے میں نے ان سے ایوان میں نہ آنے کی گزارش کی تھی۔ اگروزیراعظم مودی ایوان میں آتے توکچھ بھی غیر متوقع ہوسکتا تھا۔
کانگریس اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں میرے پاس پختہ جانکاری آئی: اسپیکر
لوک سبھا اسپیکرنے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ اراکین نے جس طرح کا برتاوکیا، ویسا آج تک کبھی نہیں ہوا۔ یہ حادثہ کالے دھبے کی طرح ہے۔ میرے پاس پختہ جانکاری آئی کہ کانگریس کے کئی اراکین وزیراعظم کی کرسی کے سامنے پہنچ کرناگہانی حادثہ کوانجام دے سکتے تھے۔ اگرایسا ہوتا تویہ بہت ہی ناخوشگوارمنظرہوتا، جوملک کی جمہوری روایات کوپامال کردیتا۔ اس کے ساتھ ہی ان خواتین پارلیمنٹ کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جووزیراعظم کی کرسی تک پہنچ گئی تھیں۔ ان میں آرسدھا، جیوتی منی، ورشا گائیکواڑ، گینی بین ٹھاکور، کے کاویا اورشوبھا بچّھاو شامل ہیں۔ اب اس معاملے سے متعلق کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی ردعمل کا اظہارکیا ہے۔
پرینکا گاندھی نے الزام کومسترد کردیا
لوک سبھا اسپیکراوم برلا کے بیان کے بعد کانگریس لیڈرپرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم مودی اسپیکراوم برلا کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ کل ان میں ایوان میں آنے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ بینچ کے سامنے تین خواتین کھڑی تھیں۔ یہ کیا بکواس ہے؟ کوئی بحث نہیں ہورہی ہے کیونکہ حکومت تبادلہ خیال نہیں کرنا چاہتی۔







