
سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ایک 19 سالہ نوجوان کو اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کو جان سے مارنے کی مبینہ دھمکی دینے کے معاملے میں ملزم قرار دیا گیا ہے۔ یہ دھمکی ہرزوگ کے آسٹریلیا کے مجوزہ دورے سے قبل دی گئی تھی۔ آسٹریلین فیڈرل پولیس (اے ایف پی) نے بتایا کہ نوجوان کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا اور اس پر ایک غیر ملکی سربراہِ مملکت کو آن لائن دھمکی دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کے مطابق، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دھمکی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کو دی گئی تھی، جو اتوار کو پانچ روزہ دورے پر آسٹریلیا پہنچنے والے ہیں۔ انہیں یہ دعوت وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، یہ دعوت بونڈی بیچ میں پیش آئے یہودی مخالف دہشت گردانہ حملے کے بعد دی گئی تھی۔
اے ایف پی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کی نئی تشکیل دی گئی نیشنل سکیورٹی انویسٹی گیشن (این ایس آئی) ٹیم کے افسران نے جنوری میں ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر صدر ہرزوگ کے خلاف مبینہ دھمکی کی تحقیقات شروع کی تھیں۔
چھاپہ ماری کے دوران نوجوان کی گرفتاری
بدھ کے روز پولیس نے ایک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے نوجوان کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد اس کے خلاف آن لائن ذریعے سے جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ اس جرم میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ہرزوگ کو آسٹریلیا میں کر لینا چاہیے گرفتار
بتایا جا رہا ہے کہ ہرزوگ کے آسٹریلیا کے دورے کے دوران فلسطین حامی گروپوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ آسٹریلیا کے معروف انسانی حقوق کے وکیل کرس سڈوٹی نے اے بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ہرزوگ کو آسٹریلیا پہنچتے ہی گرفتار کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان پر مبینہ طور پر نسل کشی کو فروغ دینے کا الزام ہے۔ سڈوٹی اس سے قبل اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی کے کمشنر رہ چکے ہیں، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال کی جانچ کرتی رہی ہے۔
غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اسرائیل
اقوام متحدہ کی ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کی ستمبر میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اے بی سی ریڈیو کو بتایا کہ حکومت نے صدر ہرزوگ کو دورے کی دعوت دینے سے قبل بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے آسٹریلیا کی ذمہ داریوں پر قانونی مشورے پر غور کیا تھا۔







