
نئی دہلی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس گفتگو کے دوران دونوں لیڈران کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جن میں تجارت سمیت دیگر موضوعات شامل تھے۔ اس بات کی اطلاع بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے دی۔
ٹرمپ کے مطابق، دونوں لیڈران کے درمیان تجارت اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے جیسے کئی اہم مسائل پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے روس سے تیل کی خریداری بند کرنے اور امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام سے یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، جہاں ہر ہفتے ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی کی درخواست اور باہمی دوستی کے تحت بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ بھارت پر عائد باہمی ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کر دے گا، جبکہ بھارت امریکہ کے خلاف اپنے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر کی سطح تک لانے کی سمت میں پیش رفت کرے گا۔
امریکہ سے بڑے پیمانے پر خریداری کا کیا گیا وعدہ
ٹرمپ کے مطابق، وزیر اعظم مودی نے ’بائے امریکن‘ پالیسی کے تحت امریکہ سے بڑے پیمانے پر خریداری کا بھی وعدہ کیا ہے، جس میں 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ اور دیگر مصنوعات شامل ہوں گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت-امریکہ تعلقات آئندہ وقت میں مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں لیڈر ایسے ہیں “جو باتوں کے بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔”
قابل ذکر ہے کہ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب وزیر خارجہ ایس جے شنکر ایک دن بعد امریکہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔







