
ئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھارت اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے پر حکومت سے مکمل وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ واقعی خوش آئند خبر ہے تو ہم ضرور خوشی منائیں گے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس معاہدے کی تمام تفصیلات ملک کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی منڈی میں بھارتی اشیا پر ٹیرف کم ہو کر 18 فیصد ہونا بظاہر مثبت قدم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بدلے بھارت نے کیا رعایتیں دی ہیں اور اس کا اثر ملکی معیشت، کسانوں اور صنعت پر کیا پڑے گا۔
پارلیمانی جمہوریت میں ٹوئٹس کافی نہیں
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہا: ’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس معاہدے میں آخر کیا طے پایا ہے۔ اپوزیشن صرف وضاحت مانگ رہی ہے۔ ہمارے پاس اس وقت صرف ڈونالڈ ٹرمپ کا ٹوئٹ ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کا ٹوئٹ۔ کیا ایک پارلیمانی جمہوریت میں اتنی بڑی ڈیل کے لیے یہی کافی ہے؟ کیا حکومت ہند کو ملک کے سامنے آ کر یہ نہیں بتانا چاہیے کہ اس معاہدے میں کیا شامل ہے؟‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شفافیت جمہوریت کی بنیاد ہے اور حکومت کو اس حساس اور اہم معاہدے پر کھل کر وضاحت کرنی چاہیے۔
کسانوں اور زراعت پر اثرات پر تشویش
ششی تھرور نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کو بھارت میں زرعی مصنوعات کی برآمد بڑھانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا: ’’اگر یہ معاہدہ زراعت کے لیے ہے تو بھارتی کسانوں کے تحفظ کی کیا ضمانت دی گئی ہے؟ امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ یہ 500 ارب ڈالر کا معاہدہ ہے، جبکہ بھارت کا کل درآمدی بل تقریباً 700 ارب ڈالر ہے۔ تو کیا ہم باقی دنیا سے خریداری بند کر دیں گے؟ اگر یہ واقعی اچھی خبر ہے تو ہم خوشی منانا چاہتے ہیں، مگر پہلے ہمیں مکمل وضاحت دی جائے۔‘‘
کانگریس کا تفصیلی سوالنامہ
اس سے قبل کانگریس پارٹی نے بھی بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا اور کئی اہم نکات پر سوالات اٹھائے، جن میں کیا بھارتی زرعی شعبہ امریکی کمپنیوں کے لیے کھولا جا رہا ہے؟ کیا ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں صفر کر دی جائیں گی؟ کیا روس سے سستا تیل خریدنے پر پابندی لگانے پر اتفاق ہوا ہے؟ شامل ہیں۔ جیسا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے؟ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ جیسے جنگ بندی کا اعلان پہلے امریکی صدر نے کیا تھا، ویسے ہی اس تجارتی معاہدے کا اعلان بھی ٹرمپ نے کیا، جو خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
’’صفر ٹیرف‘‘ کا مطلب کیا بھارت کے لیے نقصان؟
کانگریس نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کے لیے بھارتی منڈی مکمل طور پر کھول دی گئی اور ٹیرف کو صفر کر دیا گیا تو اس کا براہ راست اثر بھارتی صنعت، تاجروں اور کسانوں پر پڑے گا۔ پارٹی کے مطابق: ’’اگر بھارت نے امریکہ کے لیے اپنے بازار کے دروازے مکمل طور پر کھول دیے تو اس سے مقامی صنعت کمزور ہو سکتی ہے، چھوٹے تاجر متاثر ہوں گے اور سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہوگا۔”
روس سے تیل کی خریداری پر بھی سوال
کانگریس نے امریکی صدر کے اس دعوے پر بھی سخت تشویش ظاہر کی کہ بھارت روس سے سستا تیل خریدنا روکنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ بھارت کی توانائی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے خلاف ہوگا اور اس پر حکومت کو فوری وضاحت دینی چاہیے۔ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ملکی معیشت، کسانوں اور خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا حساس معاملہ ہے۔







