
نئی دہلی: لینڈ فار جاب معاملے میں جمعرات کے روز دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے اس کیس کے ملزمان لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، تاکہ ان کے خلاف باضابطہ الزامات طے کیے جا سکیں۔
سماعت کے دوران لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی نے اپنی بڑھتی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے آج کی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست دی۔ وہیں تیجسوی یادو نے خراب صحت کا حوالہ دے کر عدالت میں ذاتی طور پر حاضر نہ ہونے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے ان کی درخواستوں پر غور کیا۔
عدالت نے لالو، رابڑی اور تیجسوی کو دی راحت
عدالت نے لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کو راحت دیتے ہوئے اجازت دی کہ وہ یکم سے 25 فروری کے درمیان کسی بھی دن ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جس دن وہ پیش ہوں گے، اس سے ایک دن قبل عدالت کو اطلاع دینا لازمی ہوگا، تاکہ ان کے خلاف باضابطہ طور پر الزامات طے کیے جا سکیں۔
میسا بھارتی اور ہیما یادو عدالت میں ہوئیں پیش
سماعت کے دوران پاٹلی پُتر سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی رکنِ پارلیمنٹ اور لالو پرساد یادو کی بڑی بیٹی میسا بھارتی اور ان کی بہن ہیما یادو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئیں۔ دونوں نے عدالت کے سامنے کہا کہ وہ اپنے اوپر عائد الزامات کو قبول نہیں کرتیں اور اس معاملے میں قانونی لڑائی لڑیں گی۔
9 مارچ سے شروع ہوگا سی بی آئی کیس کا ٹرائل
عدالت نے مزید بتایا کہ لینڈ فار جاب معاملے سے متعلق سی بی آئی کیس کا ٹرائل 9 مارچ سے شروع ہوگا۔ اسی دن سے باقاعدہ سماعت کا عمل آگے بڑھے گا اور گواہوں کے بیانات سمیت دیگر قانونی کارروائیاں انجام دی جائیں گی۔
پہلے 46 افراد کے خلاف طے کیے تھے الزامات
اس سے قبل راؤز ایونیو کورٹ نے سی بی آئی کی چارج شیٹ پر لالو پرساد یادو، تیجسوی یادو، رابڑی دیوی، تیج پرتاپ یادو، ہیما یادو اور میسا بھارتی سمیت مجموعی طور پر 46 افراد کے خلاف الزامات طے کیے تھے، جبکہ شواہد کی کمی کی بنیاد پر 52 دیگر ملزمان کو بری بھی کر دیا تھا۔







