
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کے نئے قواعد کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران مرکز اور یو جی سی کو نوٹس جاری کیا۔ ساتھ ہی عدالت نے عارضی طور پر یو جی سی کے نئے ضابطے پر روک لگا دی اور واضح کیا کہ اگلی سماعت 19 مارچ کو ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ تب تک 2012 کے یو جی سی قواعد ہی لاگو رہیں گے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل وشنو شنکر جین نے دلیل دی کہ انہوں نے یو جی سی کے نئے قواعد کے سیکشن 3سی کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطے میں امتیاز کی وضاحت آئین کے مطابق نہیں ہے۔
وشنو شنکر جین نے کہا کہ آئین کے مطابق امتیاز کا معاملہ ملک کے تمام شہریوں سے متعلق ہے، جبکہ یو جی سی کے نئے قواعد میں اسے صرف مخصوص طبقات تک محدود کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ وضاحت نہ صرف نامکمل ہے بلکہ آئینی روح کے خلاف بھی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک اہم سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ فرض کریں کہ جنوبی بھارت کا کوئی طالب علم شمال بھارت میں داخلہ لیتا ہے یا شمالی طالب علم جنوب میں پڑھتا ہے اور اس کے خلاف کوئی توہین آمیز تبصرہ ہوتا ہے، جبکہ دونوں فریقوں کی ذات کی معلومات نہیں ہے، تو ایسی صورت میں کون سا پرویژن لاگو ہوگا؟
اس پر وشنو جین نے جواب دیا کہ سیکشن 3ای ایسی صورتوں کو کور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز ہوتا ہے تو اس کے لیے الگ سے پرویژن موجود ہے اور اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ایک اور درخواست گزار کے وکیل نے سوال کیا کہ نئے قواعد میں ریگنگ سے متعلق پرویژن کیوں ہٹا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیا ضابطہ تعلیمی نظام کو آگے لے جانے کے بجائے پیچھے دھکیل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ممکن ہے کہ کوئی فرشر، جو عام طبقے سے ہے، پہلے دن ہی مجرم کی طرح دیکھا جائے اور جیل تک پہنچ جائے، جو ایک سنجیدہ تشویش ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی ہم معاشرے کو ذات پات سے آزاد نہیں کر سکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس نئے قانون کے ذریعے ہم مزید پیچھے جا رہے ہیں؟
درخواست گزاروں نے عدالت سے یو جی سی کے نئے قواعد کو ختم کرنے اور فوری روک لگانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے، تو وہ بہتر اور متوازن ضابطہ تیار کرسکتے ہیں۔ اس پر سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ یہ آئینی معاملہ ہے۔ حالانکہ، عدالت نے ریگولیشن میں استعمال شدہ زبان پر تشویش ظاہر کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ریگولیشن میں استعمال شدہ الفاظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس کے غلط استعمال کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ جسٹس جوی مالیا باگچی نے کہا کہ عدالت معاشرے میں منصفانہ اور شمولیتی ماحول بنانے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سیکشن 2ای پہلے سے موجود ہے، تو پھر سیکشن 2سی کی مطابقت کیسے بنتی ہے؟







