
ولکاتا: وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی کے تاریخی صنعتی علاقے سِنگور کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ تقریباً 830 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ وزیرِ اعظم کے اس دورے سے قبل ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں، کارکنوں اور حامیوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مختلف علاقوں سے پارٹی کارکن وزیرِ اعظم مودی کی تصاویر اور پارٹی پرچم لے کر سِنگور کی جانب مارچ کرتے نظر آئے، جس سے پورے علاقے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم کے پروگرام سے قبل مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس بھی مالدہ سے انٹر سٹی ایکسپریس کے ذریعے بندیل اسٹیشن پہنچے۔ بندیل ریلوے اسٹیشن پر صبح سے ہی ریلوے حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پلیٹ فارم اور اطراف کے علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
گورنر سی وی آنند بوس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم مودی کے پروگرام میں شرکت کے لیے یہاں آئے ہیں اور ریاستی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ ریاست کے لیے ترقی کے نئے امکانات لے کر آئے گا۔ سِنگور میں پروگرام میں شرکت کے لیے آنے والے افراد نے وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مغربی بنگال کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور آنے والے انتخابات میں ٹی ایم سی کا صفایا ہونا طے ہے۔ ان افراد کا دعویٰ تھا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے اور عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں۔
کارکنوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت مذہبی ہم آہنگی کے خلاف کام کر رہی ہے، جس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں عوامی مسائل سننے والا کوئی نہیں، خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور جب تک بی جے پی اقتدار میں نہیں آئے گی، حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی نے سِنگور کو جان بوجھ کر منتخب کیا ہے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ممتا بنرجی نے اپنی سیاسی طاقت مضبوط کی تھی۔ ان کے مطابق اب حالات بدل رہے ہیں اور عوام سمجھ چکے ہیں کہ حقیقی ترقی کون سی جماعت کر سکتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے رخسانہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے ذریعے شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ بی جے پی عوامی فلاح کے لیے کام کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بند پڑے کارخانے دوبارہ کھلیں گے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وہیں آنند کمار سوریہ ونشی نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں کی بحالی سے مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور انہیں روزی روٹی کے لیے ریاست سے باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ دورہ مغربی بنگال کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔







