
اسلام آباد: پاکستان کے شہر کراچی میں گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ مقامی میڈیا نے اتوار کو حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس حادثے میں 10 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اس سے قبل دو الگ الگ حادثات میں 23 افراد کی موت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
آگ پر قابو پانے کا آپریشن اب بھی جاری
پاکستان کے جیو نیوز کے مطابق، ناظم آباد فائر آفس کے ایک فائر فائٹر کی لاش ملبے کے نیچے سے ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ جاں بحق فائر فائٹر کی شناخت فرقان کے نام سے ہوئی ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کا آپریشن اب بھی جاری ہے۔ آگ لگے ہوئے تقریباً 13 گھنٹے گزر چکے ہیں اور اسے بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اتوار کی صبح شدید گرمی کے باعث عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے۔
دو افراد کو برن وارڈ میں کرایا گیا داخل
ادھر محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ کم از کم چار زخمیوں کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جبکہ دو افراد کو برن وارڈ میں داخل کرایا گیا۔ مجموعی طور پر 15 زخمیوں کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر لے جایا گیا تھا، جن میں سے 14 کو بعد میں ڈسچارج کر دیا گیا۔ دو زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے بعد انہیں بھی چھٹی دے دی گئی۔
دو ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا گل پلازہ
فائر بریگیڈ کے چیف ہمایوں خان نے جیو نیوز کو بتایا کہ گل پلازہ دو ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ پلازہ کے اطراف میں آگ اب بھی لگی ہوئی ہے اور عمارت کو مکمل طور پر خستہ حال قرار دیا جا چکا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے افسران صورتحال کا جائزہ لے کر اس معاملے میں اپنا فیصلہ سنائیں گے۔
شدید گرمی کے سبب آپریشن میں دشواری
ہمایوں خان نے کہا کہ عمارت کے اندر شدید درجہ حرارت کی وجہ سے داخل ہونا مشکل ہو رہا ہے، جس کے باعث ریسکیو اور سرچ آپریشن میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ پلازہ چاروں طرف سے بند ہے اور اس میں مناسب وینٹی لیشن سسٹم موجود نہیں، جو آگ بجھانے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
اس دوران، سندھ ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر عابد جلال الدین شیخ نے بتایا کہ گل پلازہ کے تین اطراف سے 20 فائر ٹینڈرز اور چار اسنورکلز آگ بجھانے کے کام میں مصروف تھے۔ فائر حکام نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا، “ہم اس وقت یہ نہیں کہہ سکتے کہ عمارت کے اندر اب بھی کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔” واضح رہے کہ اس سے قبل دو مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 23 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی تھیں۔







