
نئی دہلی :مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا اتحاد کی شاندار جیت کے بعد سیاسی ماحول خاصا گرم ہو گیا ہے۔ ممبئی کی طاقتور بلدیہ، بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد پارٹی کے سینئر رہنما سنجے راوت کا درد کھل کر سامنے آ گیا۔ انہوں نے ایکناتھ شندے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’جے چند‘‘ قرار دیا۔سنجے راوت نے مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ اگر ایکناتھ شندے شیوسینا کے جے چند نہ بنتے تو ممبئی میں کبھی بھی بی جے پی کا میئر نہ بنتا۔ راوت نے دعویٰ کیا کہ مراٹھی عوام شندے کو ایک غدار کے طور پر یاد رکھیں گے، جنہوں نے پارٹی کے ساتھ دھوکہ کیا۔
سنجے راوت نے تاریخ کے بدنام کردار جے چند سے ایکناتھ شندے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح جے چند کو سب سے بڑے غداروں میں شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح شندے نے بھی شیوسینا کے ساتھ وفاداری توڑی۔ قابلِ ذکر ہے کہ شیوسینا کا 1997 سے 2022 تک مسلسل 25 برسوں تک بی ایم سی پر قبضہ رہا، لیکن اس بار بی جے پی۔شندے اتحاد نے اس طویل اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔
جمعہ کو جاری کیے گئے بی ایم سی انتخابات کے نتائج کے مطابق بی جے پی نے 89 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ اس کے اتحادی ایکناتھ شندے کی شیوسینا کو 29 نشستیں ملیں۔ اس طرح 227 رکنی بی ایم سی میں اتحاد نے مجموعی طور پر 118 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت اور میئر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔ دوسری جانب ادھو ٹھاکرے گروپ کو صرف 72 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔واضح رہے کہ سال 2022 میں ایکناتھ شندے نے 39 ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ادھو ٹھاکرے کی قیادت کے خلاف بغاوت کر دی تھی، جس کے نتیجے میں مہاراشٹر میں شیوسینا کی حکومت گر گئی۔ تب سے سنجے راوت مسلسل شندے پر حملہ آور ہیں اور انہیں پارٹی کے ساتھ غداری کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ بی ایم سی میں شکست کے بعد یہ تلخی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

.jpg?rect=0%2C28%2C1500%2C788&w=1200&ar=40%3A21&auto=format%2Ccompress&ogImage=true&mode=crop&enlarge=true&overlay=false&overlay_position=bottom&overlay_width=100)





