
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔ اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز اور صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی واضح پالیسی، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اصلاحاتی اقدامات نے نہ صرف نئے کاروبار شروع کرنا آسان بنایا بلکہ بھارت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اسٹارٹ اپ مرکز کے طور پر بھی قائم کیا ہے۔ جمعرات کو مختلف اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیا۔ ہیلتھ کیئر اسٹارٹ اپ 1ایم جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرشانت ٹنڈن نے کہا کہ موجودہ دور میں بھارت میں وہ تمام سہولتیں دستیاب ہیں جن کی ایک کاروباری کو ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسٹارٹ اپس کو قومی سطح پر توجہ ملی اور انہیں پالیسی سپورٹ کے ساتھ اعتماد بھی حاصل ہوا، جس کے نتیجے میں بھارت نے عالمی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں اپنی نمایاں شناخت بنائی۔
ٹنڈن نے مزید کہا کہ آج صرف کاروباری طبقہ ہی نہیں بلکہ بڑی کارپوریشنز، سرکاری ادارے اور عام عوام بھی اسٹارٹ اپس کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ وزیراعظم نے نہ صرف اس پورے نظام کی سرپرستی کی بلکہ اسے عملی طور پر آگے بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اسٹارٹ اپ سفر میں جے اے ایم ٹرینیٹی یعنی جن دھن، آدھار اور موبائل کے ساتھ ساتھ یو پی آئی جیسے مضبوط پبلک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، جس سے کاروباری افراد کو جدید، محفوظ اور تیز رفتار نظام تیار کرنے میں مدد ملی۔
اربن کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او ابھیراج سنگھ بہل نے کہا کہ جب انہوں نے اپنی کمپنی کی شروعات کی تھی تو بھارت میں صرف ایک یا دو یونیکورن موجود تھے، مگر گزشتہ آٹھ برسوں میں منظرنامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ آج ملک میں ایک سو دس سے زائد یونیکورن اور ہزاروں اسٹارٹ اپ مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں آنے والی اس انقلابی تبدیلی کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کو جاتا ہے۔ پرسٹین کیئر کے شریک بانی ہرسمر بیر سنگھ نے کہا کہ سال 2015 میں نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں وزیراعظم مودی کی تقریر نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اسی تقریر سے متاثر ہو کر انہوں نے بھارت واپس آ کر اسٹارٹ اپ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم مودی میں ایک کامیاب اسٹارٹ اپ سی ای او کی تمام خصوصیات موجود ہیں، کیونکہ وہ کسی بھی مسئلے کو دیکھتے ہی اس کے حل کے لیے فوری اقدامات کرتے ہیں۔
انہوں نے سیمی کنڈکٹر صنعت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب عالمی سطح پر یہ شعبہ بحران کا شکار تھا، اسی وقت بھارت نے اس میں قدم رکھا اور آج اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے ذریعے اس شعبے میں بیس سے تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ یہ وژن اور بروقت فیصلہ سازی کی واضح مثال ہے۔ ریز کافی کے بانی بھرت سیٹھی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں وزیراعظم مودی نے وگیان بھون میں اسٹارٹ اپ انڈیا مشن کا افتتاح کیا تھا، جہاں وہ خود موجود تھے۔ ان کے مطابق اس وقت بہت کم لوگ سمجھ پائے تھے کہ یہ اقدام مستقبل میں کتنی بڑی تبدیلی لانے والا ہے، کیونکہ بھارت اس وقت ایک بڑے تبدیلی کے دور سے گزر رہا تھا۔ بھرت سیٹھی نے کہا کہ آج بھارت میں اسٹارٹ اپس کی جو تیز رفتار ترقی نظر آ رہی ہے، اس کی بنیاد اسٹارٹ اپ انڈیا مشن نے ہی رکھی، جس نے نوجوانوں کو خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔






